پاکستان کی درج فہرست ریفائنریوں نے مالی سال 2025-26 میں غیر معمولی مالی بہتری دکھائی ہے۔ پاکستان ریفائنری منافع مالی سال 26 مجموعی طور پر 54.8 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی شعبے کو 10.5 ارب روپے کا خسارہ ہوا تھا۔
یہ بہتری بنیادی طور پر پیٹرول اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجن میں اضافے، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور پیداواری صلاحیت کے استعمال میں بہتری کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں جمع کرائی گئی مالیاتی دستاویزات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بہتری شعبے کے آپریشنل ڈھانچے میں کسی بنیادی تبدیلی کے بجائے مارکیٹ کے سازگار حالات کا نتیجہ زیادہ ہے۔
آمدنی اور مارجن میں نمایاں اضافہ
شعبے کی مجموعی آمدنی گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.54 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال 1.22 ٹریلین روپے تھی۔ مجموعی منافع (گراس پرافٹ) 10.4 ارب روپے سے دس گنا سے زائد بڑھ کر 107.4 ارب روپے ہو گیا، جس سے گراس مارجن 0.9 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہو گیا۔ خالص منافع کا مارجن 3.6 فیصد رہا۔
فروخت میں اضافے کی ایک وجہ ریفائنری سطح پر قیمتوں میں اضافہ بھی تھا۔ پیٹرول کی قیمتوں میں 17 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی دوران پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی پیداوار 13.4 فیصد بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہو گئی، اور اوسط پیداواری صلاحیت کا استعمال 48 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد ہو گیا۔
پاکستان ریفائنری منافع مالی سال 26 میں سب سے اہم عنصر ریفائننگ اسپریڈ میں اضافہ رہا۔ عرب لائٹ خام تیل کے مقابلے ڈیزل کا مارجن 9.7 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 29 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ پیٹرول کا مارجن 2.9 ڈالر سے بڑھ کر 7.4 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
کمپنی وار کارکردگی
| کمپنی | مالی سال 26 منافع | مالی سال 25 نتیجہ | اہم پیش رفت |
|---|---|---|---|
| اٹک ریفائنری لمیٹڈ | 22.1 ارب روپے | تقریباً 11.9 ارب روپے منافع | منافع میں 85 فیصد اضافہ؛ 17.50 روپے فی شیئر ڈیویڈنڈ کا اعلان |
| پاکستان ریفائنری لمیٹڈ | 15.8 ارب روپے | 4.7 ارب روپے خسارہ | فروخت کے حجم میں 1.7 فیصد کمی کے باوجود منافع بخش کاروبار کی طرف واپسی |
| سنرجیکو پی کے | 10.8 ارب روپے | 2.9 ارب روپے خسارہ | پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 12.3 فیصد اضافہ |
| نیشنل ریفائنری لمیٹڈ | 6.2 ارب روپے | 14.9 ارب روپے خسارہ | پالیسی اور اکاؤنٹنگ چارجز کی وجہ سے منافع متاثر |
نیشنل ریفائنری کا نتیجہ خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ کمپنی منافع میں تو واپس آئی، لیکن پالیسی اور اکاؤنٹنگ سے متعلق چارجز نے اس کے منافع میں تقریباً 13.5 ارب روپے کی کمی کی، جو ظاہر کرتا ہے کہ مجموعی شعبہ جاتی بحالی تمام کمپنیوں میں یکساں مضبوط نہیں۔
پیداوار میں اضافہ، مگر طلب میں تفاوت
ڈیزل کی پیداوار میں 17.2 فیصد اور پیٹرول کی پیداوار میں 12.4 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی پیداوار میں ڈیزل کا حصہ 48.6 فیصد سے بڑھ کر 50.3 فیصد ہو گیا۔ ریفائنری فروخت میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 10.8 ملین ٹن تک پہنچی، تاہم پاور سیکٹر کی کمزور طلب کے باعث فرنس آئل کی فروخت میں 7.8 فیصد کمی دیکھی گئی۔
آمدنی میں اضافے اور فروخت کے حجم میں نسبتاً کم اضافے کے درمیان یہ فرق اہم ہے، کیونکہ آمدنی میں زیادہ تر اضافہ قیمتوں کی وجہ سے ہوا، نہ کہ صارفین کی طلب میں حقیقی اضافے کی وجہ سے۔
چوتھی سہ ماہی میں سست روی، خدشات میں اضافہسب سے اہم انتباہی اشارہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی سے ملا۔ اگرچہ چوتھی سہ ماہی کی آمدنی 27 فیصد بڑھ کر 530.8 ارب روپے ہو گئی، مگر شعبے کا مجموعی گراس پرافٹ گزشتہ سہ ماہی کے 72.2 ارب روپے سے شدید کمی کے ساتھ صرف 8 ارب روپے رہ گیا۔
یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ غیر معمولی مارجن کا ماحول سال کے اختتام تک کمزور پڑنا شروع ہو چکا تھا، اور اگر بین الاقوامی ریفائننگ اسپریڈ معمول پر آتے ہیں یا خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے تو مکمل سال کے منافع کے تسلسل پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا صارفین اور مارکیٹ کے ماہرین کی رائے تقسیم نظر آئی۔ کچھ چھوٹے سرمایہ کاروں نے اٹک ریفائنری جیسی کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ اعلانات کو پاکستان ریفائنری منافع مالی سال 26 کی کامیابی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب کئی صارفین نے چوتھی سہ ماہی کے کمزور نتائج کی طرف توجہ دلاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر خام تیل کی مارکیٹ مستحکم ہو جائے تو یہ "اچھا سال" اگلے مالی سال میں دہرایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن بحث میں ایک عام تاثر یہ بھی رہا کہ آیا پرانی ریفائنریوں میں حقیقی جدت لائی جا رہی ہے یا محض عارضی قیمتی سائیکل سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
PSX کے توانائی شعبے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق مارجن میں اتنا بڑا اضافہ — ڈیزل کریک کا تقریباً تین گنا ہو جانا — تاریخی طور پر نایاب ہے اور اس کا گہرا تعلق عالمی سطح پر رسد میں رکاوٹوں سے ہے، جن میں مارچ 2026 میں شروع ہونے والا امریکہ ایران تنازع بھی شامل ہے۔
بروکریج تجزیوں میں عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ مالی سال 26 کے نتائج کو "مارجن پر مبنی بحالی" سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ساختی اصلاحات کا ثبوت، کیونکہ پاکستانی ریفائنریاں اب بھی کم پیداواری صلاحیت، پرانی ٹیکنالوجی اور فرنس آئل پر انحصار جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
تاہم ماہرین 5 ارب ڈالر کے جدید کاری پروگرام کو ایک زیادہ اہم طویل مدتی اشارہ قرار دیتے ہیں، جس میں اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری اور سنرجیکو شامل ہیں، اور جس کا مقصد پیٹرول کی پیداوار میں 72 فیصد، ڈیزل کی پیداوار میں 39 فیصد اضافہ اور فرنس آئل کی پیداوار میں 63 فیصد کمی لانا ہے۔
اہم اعداد و شمار کا خلاصہ
| اشاریہ | مالی سال 26 | مالی سال 25 | تبدیلی |
|---|---|---|---|
| مجموعی خالص منافع | 54.8 ارب روپے | 10.5 ارب روپے خسارہ | مکمل بحالی |
| مجموعی آمدنی | 1.54 ٹریلین روپے | 1.22 ٹریلین روپے | +27% |
| گراس منافع | 107.4 ارب روپے | 10.4 ارب روپے | +932% |
| گراس مارجن | 7% | 0.9% | +6.1 پوائنٹس |
| خالص مارجن | 3.6% | — | — |
| پیداواری صلاحیت کا استعمال | 55% | 48% | +7 پوائنٹس |
| ڈیزل مارجن (عرب لائٹ کے مقابلے) | ~29 ڈالر/بیرل | 9.7 ڈالر/بیرل | +199% |
| پیٹرول مارجن (عرب لائٹ کے مقابلے) | 7.4 ڈالر/بیرل | 2.9 ڈالر/بیرل | +155% |
| چوتھی سہ ماہی گراس منافع | 8 ارب روپے | 72.2 ارب روپے (سہ ماہی 3) | -89% |