پاکستان پٹرول قیمت کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پٹرول کی قیمت میں 4.61 روپے اضافہ کر کے اسے 393.75 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.96 روپے کمی کے بعد یہ 422.08 روپے فی لیٹر پر آ گئی ہے
پس منظر: مسلسل اضافوں کا سال
رواں سال پاکستان پٹرول قیمت کی کہانی زیادہ تر مسلسل اضافوں پر مبنی رہی ہے۔ 2026 کے وسط میں یومیہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے نفاذ کے بعد سے صارفین کو پے در پے اضافوں کا سامنا رہا، جن میں ستمبر کے وسط میں تقریباً 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ بھی شامل ہے۔
ڈیزل، جو ٹرانسپورٹ، زراعت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں سے براہ راست جڑا ہے، اس دوران زیادہ تیزی سے بڑھا اور پہلی بار 420 روپے سے تجاوز کر گیا، قبل اس کے کہ اتوار کو معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
حکومت بارہا ان اتار چڑھاؤ کی وجہ عالمی پلاٹس ریٹس، شرح مبادلہ کے دباؤ اور پیٹرولیم لیوی کے ڈھانچے کو قرار دیتی رہی ہے، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہر قیمت میں ٹیکس کا حصہ کتنا ہے اور اصل درآمدی لاگت کتنی — یہ شفافیت کا فقدان صارفین کے حلقوں اور ماہرینِ معیشت کی جانب سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
اس تازہ نوٹیفکیشن میں جو چیز نمایاں ہے وہ دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں فرق ہے: ڈیزل، جو مہنگائی کے لحاظ سے زیادہ حساس ایندھن ہے کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے، میں معمولی کمی کی گئی ہے، جبکہ پٹرول — جو عام شہریوں اور موٹرسائیکل سواروں کا روزمرہ ایندھن ہے — میں ڈیزل کی کمی سے دوگنی سے زائد رقم کا اضافہ کیا گیا ہے۔
سرکاری طور پر اس کی وضاحت محض ایک سطر میں دی گئی ہے ("عالمی واقعات بشمول پلاٹس ریٹس، پریمیم، اور دیگر عوامل میں تبدیلیاں")، جو تقریباً ہر OGRA نوٹیفکیشن میں بغیر کسی تبدیلی کے دہرائی جاتی ہے، اور عوام کو اصل وجوہات کے بارے میں بہت کم آگاہی ملتی ہے۔
عوامی و سوشل میڈیا ردعمل
2026 کے دوران ایندھن کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن تقریباً ہر پندرہ روز بعد سوشل میڈیا پر ایک بڑا موضوع بنتے رہے ہیں، جہاں عام شہری اور ٹرانسپورٹرز یومیہ نظام کے تحت بار بار ہونے والی تبدیلیوں پر برہمی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
رواں سال کے سابقہ اضافوں کے دوران پٹرول پمپس کی ہڑتالیں اور ڈیلرز ایسوسی ایشنز کا پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مارجن کے تنازع بھی سامنے آیا۔ پیر کو پٹرول کی نئی، بلند قیمت نافذ ہوتے ہی ایک بار پھر آن لائن ردعمل متوقع ہے، اگرچہ حکام ڈیزل میں کمی کو ایک جزوی ریلیف کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ
توانائی کے ماہرین طویل عرصے سے نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ پاکستان کا پیٹرولیم قیمتوں کا فارمولا، جسے بظاہر پلاٹس بینچ مارکس سے منسلک بتایا جاتا ہے، دراصل ایک بھاری مقررہ ٹیکس جزو (پیٹرولیم لیوی اور دیگر ڈیوٹیز) پر مشتمل ہے جسے حکومت براہ راست کنٹرول کرتی ہے — یعنی جب عالمی خام تیل کی قیمتیں کم ہوں تو صارفین کو اس کا پورا فائدہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے، مگر جب قیمتیں بڑھیں تو یہ اضافہ فوری طور پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
تنقیدی نکتہ یہ ہے کہ ایک ہی نوٹیفکیشن میں پٹرول میں 4.61 روپے اضافہ اور ڈیزل میں 1.96 روپے کمی محض پلاٹس ریٹس کی بنیاد پر جواز رکھنا مشکل ہے، کیونکہ دونوں مصنوعات ایک ہی خام تیل سے ریفائن ہوتی ہیں اور عموماً ایک ہی سمت میں حرکت کرتی ہیں، جب تک کہ مقامی لیوی یا مارجن میں الگ سے تبدیلی نہ کی جائے — سرکاری اعلامیے میں اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
قیمتوں کا خلاصہ
| مصنوعات | قیمت تا 19.09.2026 (روپے فی لیٹر) | قیمت از 22.09.2026 (روپے فی لیٹر) | تبدیلی |
|---|---|---|---|
| موٹر اسپرٹ (پٹرول) | 389.14 | 393.75 | +4.61 |
| ہائی اسپیڈ ڈیزل | 424.04 | 422.08 | −1.96 |