بجلی کا بنیادی ٹیرف 2027 طے کرنے کا پہلا مرحلہ یکم جنوری 2027 سے شروع ہو رہا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی خریداری کی قیمت طے کرانے کے لیے نیپرا میں درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں 6 ممکنہ ٹیرف تجویز کیے گئے ہیں۔ درخواست کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بہترین یعنی کم از کم لاگت والے منظرنامے میں بھی فی یونٹ خریداری قیمت موجودہ سال سے زیادہ رکھی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق جنوری سے دسمبر 2027 کے لیے کم از کم 3,386 ارب 86 کروڑ روپے کی بجلی خریداری تجویز ہے، جس کے لیے فی یونٹ لاگت کا تخمینہ 25 روپے 88 پیسے لگایا گیا ہے۔ خراب ترین صورتحال میں یہ تخمینہ 29 روپے 25 پیسے فی یونٹ تک جاتا ہے۔ نیپرا 3 نومبر کو درخواست پر سماعت کرے گا اور حتمی فیصلہ اس کے بعد ہو گا۔

بجلی کا بنیادی ٹیرف 2027: بہترین صورت بھی مہنگی

رواں سال یعنی جنوری سے دسمبر 2026 کے لیے بجلی خریداری کا تخمینہ 3,185 ارب روپے اور فی یونٹ قیمت 25 روپے 32 پیسے مقرر ہے۔ اس کے مقابلے میں 2027 کی کم از کم تجویز تقریباً 202 ارب روپے (تقریباً 6.3 فیصد) زیادہ اور فی یونٹ 56 پیسے (تقریباً 2.2 فیصد) مہنگی ہے۔ بجلی کا بنیادی ٹیرف 2027 خراب ترین صورت میں 29.25 روپے فی یونٹ کے حساب سے طے ہوا تو یہ رواں سال کی قیمت سے تقریباً 3.93 روپے، یعنی 15.5 فیصد زیادہ ہو گا۔

یعنی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تخمینے میں تقریباً 3.37 روپے فی یونٹ کا فرق ہے۔ درخواست کی جو تفصیل دستیاب ہے اس میں اس فرق کی وجوہات، یعنی ایندھن، ڈالر کی شرح یا طلب کے مفروضے، واضح نہیں ہیں۔

پس منظر: کپیسٹی پیمنٹس کا بھاری بوجھ

بجلی کی خریداری کی قیمت میں سب سے بڑا حصہ کپیسٹی پیمنٹس کا ہے، یعنی بجلی بنے یا نہ بنے، پاور پلانٹس کو ادا کی جانے والی مقررہ رقم۔ سی پی پی اے کے تخمینے کے مطابق 2027 میں یہ ادائیگیاں کم از کم 1,914 ارب 44 کروڑ روپے اور زیادہ سے زیادہ 1,962 ارب روپے رہیں گی۔ رواں سال دسمبر 2026 تک ان کا تخمینہ 1,923 ارب 31 کروڑ روپے اور فی یونٹ 14 روپے 86 پیسے ہے۔

یوں بجلی کا بنیادی ٹیرف 2027 بھی بڑی حد تک انہی مقررہ ادائیگیوں کے گرد گھومتا ہے۔ کم از کم منظرنامے میں کپیسٹی پیمنٹس رواں سال سے معمولی کم (تقریباً 8.9 ارب روپے) ہیں، لیکن زیادہ سے زیادہ منظرنامے میں تقریباً 38.7 ارب روپے زیادہ ہو جاتی ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی حالیہ رپورٹ بھی خبردار کر چکی ہے کہ جب بجلی مہنگی ہونے سے طلب گھٹتی ہے تو یہی مقررہ لاگت کم یونٹس پر تقسیم ہو کر فی یونٹ بوجھ بڑھا دیتی ہے۔

تجزیہ: اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

  • سب سے کم تخمینہ بھی اضافہ ہے۔ بجلی کا بنیادی ٹیرف 2027 کے سب سے سستے منظرنامے میں بھی خریداری کی مجموعی رقم اور فی یونٹ قیمت دونوں رواں سال سے اوپر ہیں۔
  • غیر یقینی صورتحال کا دائرہ وسیع ہے۔ 25.88 سے 29.25 روپے کے درمیان 13 فیصد کا فرق ظاہر کرتا ہے کہ اصل لاگت کا انحصار مفروضوں پر بہت زیادہ ہے۔ نیپرا کی سماعت میں ان مفروضوں کی جانچ فیصلہ کن ہو گی۔
  • مقررہ لاگت بدستور غالب ہے۔ اگر کم از کم کپیسٹی پیمنٹس اور کم از کم خریداری کو ایک ہی منظرنامے کا حصہ مانا جائے تو کپیسٹی پیمنٹس خریداری لاگت کے تقریباً 56 فیصد بنتی ہیں، یعنی آدھے سے زیادہ بل اس بات سے قطع نظر طے ہے کہ بجلی کتنی استعمال ہوئی۔
  • چھ ٹیرف، مگر تفصیل نہیں۔ تجویز کردہ 6 ٹیرف میں سے صرف کم از کم اور بدترین صورت کے اعداد سامنے آئے ہیں۔ باقی چار منظرناموں کی تفصیل عام ہونی چاہیے تاکہ صارفین اور ماہرین سماعت میں معنی خیز رائے دے سکیں۔