پاکستانی سبزی منڈی میں دکاندار سبزیاں اور اشیائے خوراک فروخت کرتے ہوئے جو ہفتہ وار ایس پی آئی مہنگائی کی رپورٹ میں شامل ہیں

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے مطابق 24 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ہفتہ وار ایس پی آئی مہنگائی میں 0.99 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی سب سے بڑی وجہ سہ ماہی اول کی بجلی کی قیمتوں میں 18.76 فیصد کا نمایاں اضافہ رہا، جبکہ انڈوں، لہسن اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر (SPI)، جو 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لیتا ہے، کے مطابق اس ہفتے 20 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، 10 میں کمی جبکہ 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار ایس پی آئی مہنگائی کی شرح کہیں زیادہ یعنی 11.92 فیصد رہی، جس میں پیاز کی قیمت دگنے سے بھی زیادہ (115.98 فیصد اضافہ) ہوئی، ایل پی جی تقریباً 64 فیصد اور بجلی کی قیمتیں گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 59 فیصد بڑھیں — جو ظاہر کرتا ہے کہ ہفتہ وار معمولی اضافے کے باوجود عوام پر سالانہ مہنگائی کا بوجھ اب بھی شدید ہے۔

پس منظر: ملا جلا ہفتہ، لیکن سالانہ رجحان زیادہ سنگین

اگرچہ ایک فیصد سے کم ہفتہ وار ایس پی آئی مہنگائی بظاہر معمولی نظر آتی ہے، تاہم رپورٹ کی تفصیلات ایک زیادہ غیر متوازن صورتحال بیان کرتی ہیں۔ ہفتے کے دوران سب سے زیادہ ریلیف جلد خراب ہونے والی اشیاء سے ملا، جہاں ٹماٹر کی قیمت 13.45 فیصد اور آلو کی قیمت 8.33 فیصد کم ہوئی، جبکہ کیلے، پیاز، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ تاہم یہ موسمی کمی سب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں ایک بڑے یکبارگی اضافے کے ساتھ سامنے آئی — 18.76 فیصد کا یہ ہفتہ وار اضافہ اکیلا ہی اگلی سب سے بڑی ہفتہ وار قیمت میں اضافے سے 18 گنا زیادہ ہے۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی نیا رجحان نہیں: بجلی، ایل پی جی، ڈیزل، پیٹرول اور آٹا کئی ماہ سے سالانہ مہنگائی کے سب سے مستقل محرک رہے ہیں، جبکہ آلو، چینی، ٹماٹر اور انڈوں جیسی چند اشیائے خوراک میں سالانہ بنیاد پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری اعلامیے عموماً یہ نہیں بتاتے کہ ایس پی آئی کی تبدیلیوں سے کون سا آمدنی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے — یہ رپورٹ اس خلا کو نیچے دیے گئے تجزیے میں پورا کرتی ہے۔

عوامی ردعمل

پچھلی ہفتہ وار رپورٹس کی طرح، اس بار بھی ایس پی آئی کے اجراء پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں مانوس تشویش دیکھی گئی، خاص طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافے پر، جسے کئی گھرانوں نے غیر متناسب قرار دیا کیونکہ یہ اکیلا ہی رپورٹ میں شامل کسی بھی دوسری ہفتہ وار قیمت کی تبدیلی سے کہیں زیادہ ہے۔

عوامی تبصروں میں اس تضاد کو بھی نمایاں کیا گیا کہ حکام اکثر سبزیوں کی گرتی قیمتوں کو مہنگائی میں کمی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ توانائی اور یوٹیلیٹی اخراجات کا کہیں بڑا سالانہ بوجھ ہفتہ وار موازنوں میں اتنا واضح نظر نہیں آتا۔

ماہرانہ تجزیہ

پی بی ایس کے اپنے آمدنی گروہ (کوئنٹائل) کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے والے ماہرین معیشت کے مطابق اس ہفتے مہنگائی کا بوجھ برابر تقسیم نہیں ہوا۔ دوسرے کم ترین آمدنی طبقے (Q2، ماہانہ اخراجات روپے 17,733 سے 22,888) میں سب سے زیادہ ہفتہ وار اضافہ یعنی 1.28 فیصد ریکارڈ کیا گیا — جو سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے (Q5) کے 0.85 فیصد اضافے سے نمایاں زیادہ ہے۔

تاہم سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے (Q5) میں سب سے تیز سالانہ اضافہ یعنی 12.31 فیصد دیکھا گیا، جبکہ سب سے کم آمدنی والے طبقے (Q1) میں یہ شرح 9.69 فیصد رہی — جو ظاہر کرتا ہے کہ توانائی پر مبنی اخراجات اب صرف غریب طبقے تک محدود نہیں بلکہ تمام آمدنی گروہوں میں مہنگائی کی رفتار طے کر رہے ہیں، برخلاف اس عمومی تاثر کے کہ خوشحال گھرانے اس سے محفوظ رہتے ہیں۔

تجزیہ کار یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بجلی کے نرخوں میں محض ایک ہفتے میں 18.76 فیصد کا اضافہ اکیلا ہی مجموعی ہفتہ وار ایس پی آئی کے اعداد کو نمایاں طور پر متاثر کرنے کے لیے کافی ہے، یعنی اگر اس ایک شے کو الگ کر دیا جائے تو بنیادی رجحان اس ہفتے کہیں ہلکا رہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی، ایل پی جی، ڈیزل اور پیٹرول میں دوہرے ہندسوں کی سالانہ اضافے کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں موجودہ مہنگائی کا اصل محرک خوراک نہیں بلکہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔