پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں اضافہ کا سلسلہ ایک اور ہفتے جاری رہا، پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں 0.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اضافہ بنا جو موسمِ سرما کی آمد سے قبل عوام کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈالے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ہفتے میں ڈیزل کی قیمت میں 7.29 فیصد، پیٹرول میں 6.40 فیصد اور ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 3.26 فیصد اضافہ ہوا — یہ اضافہ نقل و حمل اور حرارتی اخراجات دونوں کے لیے یکساں تکلیف دہ ہے۔
پس منظر: مسلسل مہنگائی کا رجحان
اس ہفتے کا پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں اضافہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال سے جاری بے رحم مہنگائی کے وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔
سالانہ بنیادوں پر ایس پی آئی میں 10.64 فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی 17 شہروں میں 51 بنیادی اشیاء پر مشتمل ٹوکری اب ایک سال پہلے کے مقابلے میں دس فیصد سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ان اشیاء میں ہوا جن سے خاندان آسانی سے بچ نہیں سکتے: پیاز کی قیمت میں سالانہ 117.77 فیصد، ایل پی جی میں 60.42 فیصد، ڈیزل میں 54.21 فیصد، پیٹرول میں 48.00 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے بجلی کے نرخوں میں 33.54 فیصد اضافہ ہوا۔
قومی خوراک کی بنیاد سمجھے جانے والا آٹا بھی اسی عرصے میں 33.27 فیصد مہنگا ہوا۔ اگرچہ ٹماٹر، آلو اور مرغی جیسی چند اشیاء میں قلیل مدتی ریلیف دیکھا گیا، تاہم پی بی ایس کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مہنگائی کا بنیادی رجحان بدستور بلند سطح پر برقرار ہے، اور ایندھن و توانائی کے اخراجات ہر گھریلو بجٹ پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
عوامی ردعمل: سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر
پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں اضافہ کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عوامی مایوسی کا اظہار دیکھنے میں آیا، بہت سے صارفین نے چند ہفتے قبل کے اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے پر شدید تنقید کی۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر جاری بحث اس بات پر مرکوز رہی کہ بار بار ہونے والی ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کس طرح نقل و حمل کے کرایوں، فوڈ ڈیلیوری اخراجات اور سبزیوں کی خوردہ قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہے، چاہے سرکاری اعداد و شمار کچھ اشیاء میں کمی ظاہر کریں۔
کئی صارفین نے نشاندہی کی کہ سالانہ بنیادوں پر 10 فیصد سے زائد مہنگائی کا اعداد و شمار حکومتی بیانیے سے متصادم ہے، جو اکثر ماہانہ کمی کو ریلیف کے طور پر پیش کرتا ہے، اور اسے عوام کی حقیقی قوتِ خرید سے لاتعلق قرار دیا۔
ماہرین کی رائے: ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں اضافہ میں اس ہفتے ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں تیز اضافہ مستقبل میں مزید مہنگائی کے دباؤ کی علامت ہے، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات براہِ راست ایس پی آئی ٹوکری کی تقریباً ہر شے کی قیمت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف ایک ہفتے میں ڈیزل کی 7.29 فیصد قیمت میں اضافہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مال برداری اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کا اثر تاریخی طور پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
سٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی کے باوجود مسلسل دوہرے ہندسوں میں سالانہ مہنگائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام کے لیے ریلیف انتہائی غیر مستحکم ہے اور عالمی تیل کی قیمتوں یا روپے کی قدر میں کمی سے کسی بھی وقت متاثر ہو سکتا ہے — جس سے نچلے اور متوسط طبقے کے خاندان موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
ہفتہ وار ایس پی آئی کا خلاصہ
| زمرہ | ہفتہ وار تبدیلی | سالانہ تبدیلی |
|---|---|---|
| ڈیزل | +7.29% | +54.21% |
| پیٹرول | +6.40% | +48.00% |
| ایل پی جی سلنڈر | +3.26% | +60.42% |
| لہسن | +1.94% | -5.10% |
| انڈے | +1.72% | -19.31% |
| بجلی (پہلی سہ ماہی) | 0.00% (ہفتہ وار) | +33.54% |
| گندم کا آٹا | -0.28% | +33.27% |
| پیاز | -4.57% | +117.77% |
| مجموعی ایس پی آئی | +0.49% | +10.64% |
| اضافے والی اشیاء | 19 از 51 (37.25%) | — |
| کمی والی اشیاء | 9 از 51 (17.65%) | — |
| مستحکم اشیاء | 23 از 51 (45.10%) | — |