ایف بی آر ٹیکس ہدف کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے پہلے روز ہی ابہام سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال کے 15 ہزار 263 ارب روپے کے مجموعی ہدف کے حصول کی قطعی ضمانت نہیں دی اور اسے خطے کی سلامتی، بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مشروط کردیا۔
ایف بی آر ٹیکس ہدف اور آئی ایم ایف کی بریفنگ
آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے گزشتہ مالی سال کے ٹیکس ہدف میں بڑے پیمانے پر کمی اور رواں سال محصولات کے امکانات پر بریفنگ لی۔ ایف بی آر نے یقین دلایا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداواری لائنوں کی نگرانی سمیت کارکردگی کے تمام اہم اشاریوں کے اہداف حاصل کرلیے جائیں گے۔ پہلی سہ ماہی کے 7 ہزار ارب روپے کے ہدف کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔
تاہم سالانہ ایف بی آر ٹیکس ہدف پر ادارہ محتاط رہا۔ اس کے مطابق ہدف کا حصول اس پر منحصر ہے کہ خطے کی سلامتی کی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے اور اس کے پاکستانی معیشت پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔
پس منظر: ہدف میں کمی کی روایت
پچھلے مالی سال کے ہدف میں بڑی کمی کرنا پڑی تھی، اس لیے آئی ایم ایف کی توجہ اس بار ایف بی آر ٹیکس ہدف کی حقیقت پسندی پر ہے۔ ناقدین کے مطابق ہر سال بیرونی حالات کو کمزور وصولیوں کا جواز بنانا مسئلے کو ٹالنا ہے۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس چوری کی روک تھام جیسے ساختی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔
ٹیکس دہندگان کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اب تک 3 ہزار 650 رجسٹریشنز اور ایک ہزار 912 گوشوارے جمع ہوئے ہیں۔ ملک کی مجموعی معیشت اور ٹیکس کے ممکنہ دائرے کے مقابلے میں یہ تعداد بہت کم ہے۔ یہ اعداد و شمار اس ہدف کے لیے ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔
سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی قانون سازی
مذاکرات کے پہلے روز ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے حکام نے مشن سے ملاقاتیں کیں۔ ایف بی آر کے کسٹمز اور انکم ٹیکس پالیسی ونگز نے کارکردگی پر بریفنگ دی۔
مشن کو بتایا گیا کہ سول سرونٹس ایکٹ میں نئی دفعہ 15اے شامل کی گئی ہے، جس کے تحت گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے اور تفصیلات ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کا نظام کتنا مؤثر ہوگا اور غلط بیانی پر کیا کارروائی ہوگی۔ اس کے بغیر یہ شق محض کاغذی کارروائی رہ سکتی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین کا سوال ہے کہ جب ایف بی آر خود ہدف کی ضمانت نہیں دے رہا تو بجٹ میں ٹیکس بوجھ کن پر ڈالا جارہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروباری پہلے ہی بھاری ٹیکسوں کی شکایت کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق ہدف کو بیرونی حالات سے مشروط کرنا اس امر کا اعتراف ہے کہ وصولیوں کا انحصار بنیادی اصلاحات کے بجائے بیرونی عوامل پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ کا مؤثر نفاذ، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور استثنیٰ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ورنہ آئی ایم ایف پروگرام کے جائزوں میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔