وزارتِ صنعت و پیداوار نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور کو انکوائری کے فیصلے تک فوری طور پر رخصت پر بھیج دیا ہے۔ 15 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم نے مسٹر حماد علی منصور کے خلاف انکوائری کرانے کی ہدایت دی ہے، اور آرڈر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انکوائری کے حتمی نتیجے تک سی ای او ای ڈی بی رخصت پر رہیں گے۔ یہ ای ڈی بی سی ای او رخصت آرڈر سیکرٹری صنعت و پیداوار ڈویژن کی منظوری سے جاری کیا گیا اور فوری طور پر، اگلے احکامات تک نافذ العمل ہوگا۔

پس منظر: ایک متنازع دورِ ملازمت

ای ڈی بی سی ای او رخصت آرڈر کا پس منظر مسٹر منصور کے نسبتاً مختصر دورِ ملازمت سے جڑا ہوا ہے۔ انہیں 2025 میں تین سالہ معاہدے کے تحت ایم پی-1 اسکیل میں ای ڈی بی کا سی ای او مقرر کیا گیا تھا، جو وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایک وسیع انتخابی عمل کا نتیجہ تھا جس میں 248 درخواستیں موصول ہوئیں، 33 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، اور بالآخر مسٹر منصور کا نام سرِفہرست امیدوار کے طور پر وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا گیا۔ اس تقرری کا مقصد ایک ایسے ادارے میں تسلسل لانا تھا جو ماضی میں بار بار قیادت کی تبدیلی اور تنازعات کا شکار رہا ہے۔ تاہم اب یہ ای ڈی بی سی ای او رخصت آرڈر مسٹر منصور کو ان سابقہ سی ای اوز کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے جن کا دورِ ملازمت تنازعات یا انکوائریوں کی وجہ سے ادھورا رہا۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مسٹر منصور نے مارچ 2026 کے ایک واقعے سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کو پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنازعہ کئی ماہ سے زیرِ بحث تھا۔ آرڈر جاری ہونے کے اسی روز وزارت نے فیصل نثار چوہدری کو قائم مقام سی ای او ای ڈی بی کا اضافی چارج سونپ دیا تاکہ بورڈ کے روزمرہ امور متاثر نہ ہوں۔

عوامی اور صنعتی حلقوں کا ردعمل

ای ڈی بی سی ای او رخصت آرڈر کی خبر سامنے آتے ہی صنعتی حلقوں اور انجینئرنگ سیکٹر سے وابستہ افراد کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ سوشل میڈیا اور صنعتی فورمز پر رائے دو حصوں میں بٹی نظر آئی: کچھ حلقوں نے اس اقدام کو احتساب کی جانب حکومت کی سنجیدگی کا مظہر قرار دیا، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ای ڈی بی کی قیادت میں ایک اور اچانک تبدیلی جاری پالیسی معاملات، بشمول ٹیرف ریشنلائزیشن اور شعبہ جاتی ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ کئی مبصرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مسٹر منصور کی جانب سے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ محض انتظامی حکم نامے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: آرڈر کے پیچھے کیا اشارے ہیں؟

پاکستان کی صنعتی پالیسی کے امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق ای ڈی بی سی ای او رخصت آرڈر اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ یہ ایک ایسے تین سالہ معاہدے کے محض ایک سال بعد سامنے آیا ہے جو کابینہ کی سخت جانچ پڑتال کے بعد دیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی موجودہ سی ای او کو انکوائری کے دوران عہدے پر برقرار رکھنے کے بجائے رخصت پر بھیجنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیراعظم آفس الزامات کو نہایت سنجیدہ سمجھتا ہے۔ ساتھ ہی فیصل نثار چوہدری کو قائم مقام سی ای او مقرر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ای ڈی بی کے بنیادی امور، جیسے انجینئرنگ سیکٹر کی برآمداتی پالیسی اور ٹیرف ریشنلائزیشن کے کام کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھنا چاہتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا مقدمے کا حتمی فیصلہ اس نئی انکوائری کی سمت پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔