فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شمولیت کے قواعد میں ایک نئی شرط تجویز کی ہے۔

مسودہ ترمیم کے تحت جو افراد مقررہ یا توسیع شدہ تاریخ کے بعد ریٹرن جمع کرائیں گے، انہیں 25 ہزار روپے کا سرچارج ادا کیے بغیر لسٹ میں شامل کیا جا سکے گا، بشرطیکہ وہ آئندہ چھ ماہ تک کوئی جائیداد نہ خریدنے کا حلف نامہ جمع کرائیں۔ بظاہر یہ رعایت ہے، مگر اس کے بدلے شہریوں کے جائیداد خریدنے کے حق پر قدغن لگانے کی شرط رکھی گئی ہے۔

ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کے لیے نئی شرط کیا ہے؟

ایف بی آر نے یہ مسودہ ترامیم انکم ٹیکس رولز میں ایس آر او 1691(I)/2026 کے ذریعے جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق جو فرد تازہ ترین ٹیکس سال کا ریٹرن ڈیو ڈیٹ کے بعد جمع کرائے گا اور آئرس کے ذریعے فارم اے ٹی ایل۔یو (ATL-U) میں حلف نامہ داخل کرے گا، اس کا نام سرچارج کے بغیر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔

حلف نامے میں فرد یہ اعلان کرے گا کہ حلف نامہ جمع کرانے کی تاریخ سے چھ ماہ تک وہ کسی بھی جائیداد کی خریداری نہیں کرے گا، اور نہ اس میں ملکیت یا فائدہ مند مفاد حاصل کرے گا۔ سرچارج معافی کا فائدہ اسی پابندی سے مشروط ہے۔ چھ ماہ کی مدت آئرس کی جاری کردہ الیکٹرانک رسید پر درج تاریخ سے شروع ہوگی۔

خلاف ورزی ثابت ہوئی تو کیا ہوگا؟

مسودے کے مطابق بورڈ حلف نامے پر عملدرآمد کی تصدیق انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت دستیاب معلومات یا کسی ادارے، ایجنسی، رجسٹری، مالیاتی ادارے یا دیگر قانونی ذریعے سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر کر سکتا ہے۔ اگر معلومات سے ظاہر ہو کہ فرد نے اس مدت میں جائیداد خریدی یا اس میں ملکیت یا فائدہ مند مفاد حاصل کیا، تو اسے الیکٹرانک طریقے سے سماعت کا موقع دیا جائے گا۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر سب رول (2B) کے تحت دی گئی رعایت خلاف ورزی کی تاریخ سے ختم تصور ہوگی اور ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شمولیت اس کے بعد سب رول (2A) کے تحت طے ہوگی۔

پس منظر: ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ اور جائیداد کے سودوں کا تعلق

پاکستان میں ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والوں پر جائیداد کی خرید و فروخت سمیت کئی لین دین میں زیادہ شرح سے ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ اسی لیے لسٹ میں شمولیت عملاً بہت سے شہریوں کے لیے مالی ضرورت بن چکی ہے۔ ایف بی آر کی نئی تجویز اسی ضرورت کو استعمال کرتے ہوئے رعایت کو جائیداد کے سودوں سے جوڑتی ہے۔

ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کی شرط پر سوالات

اس مسودے میں کئی نکات وضاحت طلب ہیں:

  • حلف نامے میں "کسی بھی جائیداد" کی تعریف کیا ہے؟ کیا اس میں وراثت، ہبہ، فلیٹ کی بکنگ یا ورثے میں ملنے والا حصہ بھی شامل ہوگا؟ "فائدہ مند مفاد" کا لفظ دائرہ کار کو بہت وسیع کر دیتا ہے۔
  • کیا ایک مالی رعایت کو شہری کے جائیداد خریدنے کے حق کی پابندی سے مشروط کرنا ٹیکس قواعد کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، یا اس کے لیے قانون میں ترمیم درکار ہے؟
  • چھ ماہ کی مدت میں بالکل جائز اور ناگزیر ضرورت، مثلاً رہائش کی تبدیلی، پر کوئی استثنا ہے یا نہیں؟
  • خلاف ورزی کی نشاندہی جن "دیگر قانونی ذرائع" سے ہوگی، ان کی حد کیا ہے؟ رجسٹریوں اور مالیاتی اداروں سے ڈیٹا کا تبادلہ کس نظام کے تحت ہوگا اور نجی معلومات کے تحفظ کے کیا ضوابط ہیں؟
  • الیکٹرانک سماعت کا طریقہ کار، مدت اور اپیل کا حق کیا ہوگا؟
  • رعایت واپس لینے کے بعد لسٹ سے اخراج کی صورت میں پہلے سے طے شدہ سودوں پر اضافی ٹیکس کا کیا ہوگا؟

دیگر ایس آر اوز: خودکار اسکروٹنی اور بحری شعبہ

اسی دن ایف بی آر نے ایس آر او 1690(I)/2026 بھی جاری کیا، جس میں ٹیکس دہندگان کے ریٹرن کی خودکار جانچ اور خودکار نظام کی نشاندہی کردہ نکات کی اطلاع کا الیکٹرانک طریقہ کار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ریٹرن کی پراسیسنگ کے لیے "سی آر ایم" سمیت ایک خودکار نظام موجود ہوگا۔

ایس آر او 1689(I)/2026 کے ذریعے غیر مقیم جہاز مالک، چارٹرر یا مجاز شپنگ ایجنٹ کے ریٹرن کا فارم مطلع کیا گیا ہے۔ خودکار نظام کے ذریعے ریٹرن پرکھنا اور ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کی نئی شرط پر نگرانی، دونوں کی کامیابی کا انحصار نظام کی درستی اور شفافیت پر ہوگا۔

تجزیہ: رعایت یا نئی پابندی؟

مبصرین عموماً ایسی تجاویز کو دو زاویوں سے دیکھتے ہیں: کیا یہ واقعی تعمیل بڑھاتی ہیں، اور کیا یہ شہریوں کے بنیادی معاشی حقوق میں غیر ضروری مداخلت ہیں۔ تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کو لسٹ میں آنے کا راستہ دینا مثبت پہلو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے چھ ماہ تک جائیداد کی خریداری سے روکنا غیر معمولی شرط ہے جس کا نفاذ اور نگرانی دونوں مشکل نظر آتے ہیں۔

ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کی شرائط جتنی پیچیدہ ہوں گی، عام ٹیکس دہندہ کے لیے اتنا ہی مشکل ہوگا کہ وہ اپنی حیثیت محفوظ رکھ سکے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ ابھی مسودہ ہے، اور حتمی نوٹیفکیشن سے پہلے عوامی تجاویز کی گنجائش موجود ہونی چاہیے۔