PTCL قرضے اور واجبات جولائی تا دسمبر 2025 میں تیزی سے بڑھ گئے۔ سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کے کھاتوں کے مطابق کمپنی کے کل واجبات 917.17 ارب روپے ہو گئے، جو ایک سال پہلے کے 770.17 ارب روپے سے تقریباً 19 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کا خالص خسارہ 7.20 ارب روپے سے کم ہو کر 4.87 ارب روپے رہ گیا، لیکن 36.87 ارب روپے کا ایکویٹی بنیاد تقریباً 25 گنا بڑے واجبات کو سہارا دے رہا ہے۔ یوں خسارے میں کمی کی خبر PTCL قرضے اور واجبات کے بڑھتے بوجھ کے سامنے کمزور دکھائی دیتی ہے۔
قرضے اور واجبات میں کیا تبدیلی آئی PTCL
آمدنی 14.5 فیصد اضافے سے 125.87 ارب روپے اور مجموعی منافع 46 فیصد اضافے سے 41.99 ارب روپے ہو گیا۔ یہ حقیقی بہتری ہے، مگر PTCL قرضے اور واجبات کی تفصیل کچھ اور کہانی سناتی ہے:
- بینک قرضے 291.43 ارب روپے سے بڑھ کر 327.79 ارب روپے ہو گئے۔
- دیگر قرضے 16.89 ارب روپے سے چار گنا سے زیادہ بڑھ کر 68.20 ارب روپے ہو گئے۔
- واجب الادا سود 3.60 ارب روپے ظاہر ہوا، جبکہ پچھلے سال یہ صفر تھا۔
- پنشن واجبات 42.85 ارب روپے سے بڑھ کر 47.89 ارب روپے ہو گئے۔
- غیر جاری واجبات تقریباً 51 فیصد اضافے سے 416.52 ارب روپے ہو گئے۔
کمپنی اب بھی خسارے میں ہے۔ 18.75 ارب روپے کا آپریٹنگ منافع 23.33 ارب روپے کے مالیاتی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکا۔ مالیاتی اخراجات 26.32 ارب روپے سے کم ہوئے، مگر اب بھی آمدنی کا تقریباً پانچواں حصہ نگل رہے ہیں۔
پس منظر: بڑھتے قرضوں کے پیچھے سکڑتی ایکویٹی
حکومتِ پاکستان کی 62 فیصد ملکیت والی PTCL برسوں سے بھاری ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہے۔ جولائی تا دسمبر 2023 میں ایکویٹی 58.18 ارب روپے تھی، جو اب 36.87 ارب روپے رہ گئی ہے۔ جمع شدہ خسارہ 42.69 ارب روپے ہے، جبکہ کمپنی کا حصص سرمایہ 51 ارب روپے ہے۔
حکومتی معاونت بھی بدل گئی۔ جولائی تا دسمبر 2024 میں PTCL کو 4.07 ارب روپے کی گرانٹ ملی تھی، جبکہ تازہ مدت میں کوئی گرانٹ نہیں ملی۔ اس لیے PTCL قرضے اور واجبات میں اضافے کو ریاستی مدد کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا؛ یہ قرض کہیں اور سے لیا جا رہا ہے۔
کل اثاثے 806.43 ارب روپے سے بڑھ کر 954.04 ارب روپے ہو گئے، جن میں غیر جاری اثاثے 53 فیصد اضافے سے 604.69 ارب روپے ہو گئے۔ دستیاب اعداد و شمار یہ نہیں بتاتے کہ کیا خریدا گیا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ اثاثے اتنی آمدنی دیں گے کہ بڑھے ہوئے قرض کی ادائیگی ممکن ہو۔
تجزیہ: قرض کے تناسب کیوں اہم ہیں
تناسب بحالی کے بجائے دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
- قرض/ایکویٹی 24.9 ہے، جو 21.2 اور جولائی تا دسمبر 2023 کے 10.1 سے بڑھ گیا۔ یعنی PTCL قرضے اور واجبات ایکویٹی کی بنیاد سے کہیں تیزی سے بڑھے ہیں۔
- کرنٹ ریشو 0.70 اور خالص ورکنگ کیپیٹل منفی 151.30 ارب روپے ہے، کیونکہ 500.65 ارب روپے کے موجودہ واجبات 349.35 ارب روپے کے موجودہ اثاثوں سے زیادہ ہیں۔ قلیل مدتی ذمہ داریاں پوری طرح ڈھکی ہوئی نہیں۔
- سود کی وصولی کا تناسب 80 فیصد ہے، جو 47 اور 20 فیصد سے بہتر ہے، مگر 100 فیصد سے کم ہے، یعنی آپریشنز اب بھی پورا سود ادا نہیں کر پاتے۔
- ایکویٹی پر منافع منفی 13.22 فیصد ہے، جو منفی 19.85 فیصد سے بہتر ہے، مگر شیئر ہولڈرز کی قدر اب بھی گھٹ رہی ہے۔
- آپریشنل لاگت کی وصولی 1.17 ایک معمولی مثبت پہلو ہے۔
اصل مسئلہ بہتری کے معیار کا ہے۔ ایک سال میں PTCL قرضے اور واجبات تقریباً 147 ارب روپے بڑھے، جبکہ خسارہ صرف تقریباً 2.3 ارب روپے کم ہوا۔ قرض اس آمدنی سے کہیں تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے اسے ادا ہونا ہے۔ قرض میں کمی یا تنظیمِ نو کے کسی قابلِ اعتبار منصوبے کے بغیر، آمدنی میں اضافہ بھی بوجھ کے آگے ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔
خلاصہ جدول
اشارہ (ملین روپے)جولائی تا دسمبر 2025جولائی تا دسمبر 2024آمدنی125,867109,891آپریٹنگ منافع18,74512,270مالیاتی اخراجات23,32926,317خالص خسارہ(4,874)(7,197)کل واجبات917,168770,166بینک قرضہ327,789291,432دیگر قرضہ68,20016,889پنشن واجبات47,89342,846کل ایکویٹی36,87036,266قرض/ایکویٹی (گنا)24.921.2کرنٹ ریشو0.700.83