پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کی ڈیجیٹل پراڈکٹ "اونک" (ONIC) کے فوری بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اونک سروس کی بندش کا یہ حکم نئی سمز کے اجراء، سبسکرپشنز، مارکیٹنگ اور کمرشل سرگرمیوں پر فوری طور پر لاگو ہو گا، جبکہ موجودہ صارفین کو صرف تین ماہ کے اندر یوفون کے نظام میں منتقل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ 11 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے اس آرڈر پر بازار، صارفین اور ٹیلی کام تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جو اسے ایک ایسا فیصلہ قرار دے رہے ہیں جس نے لاکھوں صارفین کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

پس منظر: تین سال کی تاخیر اور صارفین کا نقصان

اونک سروس کی بندش کے پیچھے دراصل ایک طویل اور سست ریگولیٹری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم ایل نے جون 2023 میں اونک برانڈ کے تحت ڈیجیٹل پراڈکٹ اور پری پیڈ سمز متعارف کرانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، اور 22 جون 2023 کو اس کا کمرشل لانچ بھی متوقع تھا۔ تاہم پی ٹی اے نے 10 اگست 2023 کو معلومات نامکمل قرار دیتے ہوئے لانچ روک دیا، جس کے خلاف پی ٹی ایم ایل نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے فروری 2026 میں معاملہ دوبارہ پی ٹی اے کو بھجوایا تاکہ باقاعدہ فیصلہ سنایا جائے۔ گویا صارفین اور کمپنی تین سال سے زائد عرصہ ایک غیر واضح قانونی حیثیت کے ساتھ کاروبار کرتے رہے، اور اب اچانک اونک سروس کی بندش کا حکم صادر کر کے پوری صنعت کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی اے نے بروقت، شفاف اور تیز فیصلہ کیا ہوتا تو نہ کمپنی کو اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خطرہ ہوتا اور نہ ہی صارفین کو آج اچانک منتقلی کے جھنجھٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ آرڈر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈی ٹی ایم ایس (DTMS) نامی کمپنی، جو اونک کے مارکیٹنگ اور کمرشل آپریشنز کی ذمہ دار ہے، بی او ایس اے معاہدے کے تحت ابتدائی تین سالوں میں 55 فیصد ریونیو حاصل کرتی رہی ہے۔ اتھارٹی نے ONIC کو ایم وی این او (MVNO) فریم ورک کے دائرے میں قرار دیا ہے، حالانکہ برانڈ، نمبرنگ اور اسپیکٹرم بدستور پی ٹی ایم ایل کے پاس ہی رہے۔

صارفین اور سوشل میڈیا کا شدید ردعمل

اونک سروس کی بندش کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے تشویش اور غصے کا اظہار دیکھا گیا۔ بہت سے صارفین نے سوال اٹھایا کہ جب وہ برسوں سے اونک کی ڈیجیٹل ایپ، پیکجز اور نمبر استعمال کر رہے تھے تو اچانک تین ماہ میں یوفون منتقلی کا بوجھ ان پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں نیا سم لینے یا سسٹم تبدیل کرنے کی زحمت اٹھانا پڑے گی بلکہ ڈیٹا، بیلنس اور سروس کے تسلسل سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں۔ کاروباری حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ریگولیٹری ابہام تین سال تک برقرار رہا تو اس کا خمیازہ کاروبار اور ملازمین کو کیوں بھگتنا پڑے۔ آن لائن فورمز پر یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیلی کام برانڈز کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول مزید غیر یقینی ہو گیا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: ریگولیٹری ابہام کی قیمت کون ادا کرے گا؟

ٹیلی کام سیکٹر کے تجزیہ کاروں کے نزدیک اونک سروس کی بندش کا فیصلہ اگرچہ قانونی طور پر عدالتی حکم کی تعمیل میں کیا گیا، مگر اس کے عملی نتائج نہایت سنگین ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے 2023 سے 2026 تک تین سال کی تاخیر خود ایک ریگولیٹری ناکامی ہے، اور اب اچانک بندش کا حکم دے کر پوری ذمہ داری کمپنی اور صارفین پر ڈال دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی ایم وی این او پالیسی 2025 کے تحت لائسنس فیس 140,000 امریکی ڈالر مقرر کی گئی، جو پرانی پالیسی کے 5 ملین ڈالر سے کم ضرور ہے، مگر اس کے باوجود پی ٹی ایم ایل کو اب دوبارہ لائسنسنگ کے پورے عمل سے گزرنا پڑے گا، جس سے کاروباری تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف سات دنوں میں تعمیل رپورٹ جمع کرانے کی سخت شرط عملی طور پر ناقابلِ عمل ہو سکتی ہے، جس سے مزید انتظامی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔