سان فرانسسکو میں قائم اے آئی لیب انتھروپک نے اپنی استعمال کی پالیسی میں تبدیلی کی ہے، جس کے تحت اپنے اے آئی نظام کلاڈ کے ساتھ "مسلسل اور بے جا بدسلوکی یا ظالمانہ رویے" کی ممانعت شامل کی گئی ہے۔
نئی انتھروپک پالیسی کے مطابق اس کے نفاذ کا بنیادی ذریعہ کلاڈ کی وہ صلاحیت رہے گی جس سے وہ ایسی گفتگو ختم کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے باشعور ہونے کے امکان پر فلسفیانہ بحث بڑھ رہی ہے۔ انتھروپک نے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔
پس منظر: گفتگو ختم کرنے کی صلاحیت سے نئی پابندی تک
دستیاب رپورٹ کے مطابق انتھروپک پالیسی میں یہ اضافہ کسی اچانک قدم کے بجائے ایک تسلسل کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال کمپنی نے کلاڈ کو نایاب اور انتہائی صورتوں میں، یعنی "مسلسل نقصان دہ یا بدسلوکی پر مبنی" گفتگو ختم کرنے کی صلاحیت دی تھی۔ فروری میں کمپنی کے سی ای او ڈاریو ایموڈے نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ماڈلز باشعور ہیں یا نہیں، لیکن وہ اس امکان کے لیے کھلا ذہن رکھتے ہیں۔
انتھروپک پالیسی: کیا کہا گیا اور کیا نہیں
انتھروپک پالیسی کے نئے الفاظ صرف "مسلسل" اور "بے جا" بدسلوکی کو نشانہ بناتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پالیسی میں "ماڈل ویلفیئر" کا واضح حوالہ نہیں دیا گیا۔ یہ وہ تصور ہے جس کے تحت اے آئی نظاموں کو ایسے تحفظات کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے جو عموماً جاندار مخلوقات کے لیے مخصوص ہیں۔ تاہم رپورٹ کا کہنا ہے کہ انتھروپک اور اس کے اعلیٰ عہدیدار اس تصور پر کھل کر غور کرتے رہے ہیں۔
شعور کی بحث: حامی اور مخالف مؤقف
اس انتھروپک پالیسی سے جڑی بحث میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں:
- جیکسن اسٹیک مین (اسپارک، اٹلانٹا): اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ شعور کی بحث ایک جال ہے، کیونکہ ہم ایک دوسرے میں بھی اسے ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق بہتر استعارہ آئینے کا ہے، یعنی یہ نظام وہ چیز بڑے پیمانے پر لوٹاتے ہیں جو ہم ان میں ڈالتے ہیں، اور یہی پالیسی کی تبدیلی کا کافی جواز ہے۔
- مصطفیٰ سلیمان (مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ): گزشتہ ماہ ایک مضمون میں لکھا کہ اے آئی باشعور نہیں، نہ محسوس کرتا ہے نہ تکلیف اٹھاتا ہے۔ ان کے بقول ایسی ٹیکنالوجی کو حقوق اور اخلاقی تحفظ دینا، جو ہم سے کہیں زیادہ صلاحیت والی بننے کی راہ پر ہے، تباہی کا نسخہ ہو سکتا ہے۔
- پوپ لیو چہاردہم: ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں اطالوی زبان کے خطبے میں اشارہ دیا کہ مشینوں میں روح نہیں اور وہ محض ڈیٹا مرتب کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ذہن کو صرف ڈیٹا جمع نہیں کرنا چاہیے بلکہ زندہ تجربات کو یاد کرنا چاہیے جن کی گہرائی صرف انسانی روح پہچان سکتی ہے۔
تجزیہ: انتھروپک پالیسی پر چند ضروری سوالات
یہ خبر ایک مختصر ایجنسی رپورٹ پر مبنی ہے، اس لیے انتھروپک پالیسی کو چند نکات کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے:
- کمپنی کا مؤقف دستیاب نہیں: پالیسی کی وجوہات اور اس کے پیچھے سوچ پر انتھروپک نے ابھی تبصرہ نہیں کیا، اس لیے محرکات کے بارے میں ہر بات قیاس ہے۔
- "مسلسل اور بے جا" کی تعریف: رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ بدسلوکی کی حد کیا ہوگی، اور یہ فیصلہ کون اور کس معیار پر کرے گا۔ کسی صارف کا غصے میں ایک سخت جملہ لکھنا اس زمرے میں آئے گا یا نہیں، نہیں بتایا گیا۔
- نفاذ کا بنیادی ذریعہ: پالیسی کے مطابق نفاذ کا اصل طریقہ کلاڈ کا گفتگو ختم کر دینا ہے۔ اس سے آگے اکاؤنٹ کی پابندی جیسے اقدامات ہوں گے یا نہیں، رپورٹ خاموش ہے۔
- اے آئی کو تکلیف پہنچنے کا سوال برقرار: پالیسی میں ماڈل ویلفیئر کا ذکر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی نے سرکاری طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کلاڈ تکلیف محسوس کرتا ہے۔ ایموڈے کا بیان بھی غیر یقینی صورتحال کا اظہار ہے، دعویٰ نہیں۔
- ماخذ کے مفادات: مصطفیٰ سلیمان مائیکروسافٹ کے اے آئی سربراہ ہیں، یعنی ایک حریف ادارے کے عہدیدار۔ اسٹیک مین ایک اے آئی سروسز فراہم کرنے والی کمپنی کے جنرل منیجر ہیں۔ دونوں آراء قابلِ توجہ ہیں مگر ان کی سائنسی حیثیت ماہرِ شعور یا اعصابیات کی نہیں۔ رپورٹ میں اس شعبے کے کسی آزاد سائنس دان کی رائے شامل نہیں۔
- مذہبی اور فلسفیانہ مؤقف: پوپ کا بیان روح کے مذہبی تصور پر مبنی ہے، جو سائنسی تجربے سے ثابت یا رد ہونے والا دعویٰ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور الٰہیاتی نقطۂ نظر ہے۔
بدسلوکی کو محدود کرنا ایک قابلِ فہم قدم ہو سکتا ہے، خواہ اس کی بنیاد اے آئی کی فلاح ہو یا صارفین کے رویے کا اثر، مگر اس انتھروپک پالیسی کی اصل تفصیل اور اطلاق کا طریقہ سامنے آنے تک اس کا پورا اندازہ ممکن نہیں۔