اضافی بجلی صنعت و زراعت کو فراہم کرنے کا فیصلہ
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں دستیاب 7 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی صنعت اور زراعت کے شعبوں کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پیداواری سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
ہیش ٹیگ
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں دستیاب 7 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی صنعت اور زراعت کے شعبوں کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پیداواری سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا کو ستمبر 2025ء کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی 37 پیسے فی یونٹ تک سستی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ممبر نیپرا نے اپنے اختتامی نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ توانائی کے ماہرین اور نظامی ذرائع نےکے-الیکٹرک کے چار بجلی گھروں کی ممکنہ بندش کے منصوبے پرسخت تشویش کا اظہار
کراچی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے۔ الیکٹرک کے 31 اگست 2025 تک اس کے مجموعی بقایا قرضے 272 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جن میں 91 ارب روپے غیر ملکی اور 181 ارب روپے مقامی قرضے شامل ہیں۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے توانائی شعبے میں دہائیوں سے موجود گردشی قرض آئندہ چھ سالوں میں مکمل ختم کر دیا جائے گا۔
پاکستان کی توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی بجلی کی ترسیل و تقسیم کی کمپنیوں، جن میں کے الیکٹرک اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) شامل ہیں، کو نیپرا نے مہلک اور غیر مہلک حادثات کے باعث مجموعی طور پر 975 ملین روپے کے جرمانے کیے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی، گردشی قرضے کے خاتمے، لائن لاسز اور بجلی چوری پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔
وزارت توانائی کو فروخت کیلئے پیش کیے گئے تین حکومتی پاور پلانٹس میں بہت ہی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسکو صرف ایک ہی پلانٹ کی فروخت کیلئے پیشکش موصول ہوئی ہے
پاکستان مسلم لیگ نواز کے ابتدائی 13 ماہ کے دورحکومت میں پاورسیکٹرکے گردشی قرض میں 283ارب روپے کی کمی ہوئی ہے
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ "بجلی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کی ہیں، انہوں نے 3,696 ارب روپے کی بچت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ریلیف عوام کو ملے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی قیمتوں میں بڑے ریلیف کے اعلان کے بعد مختلف کیٹگریز کے صارفین کے لیے موجودہ ریٹس اور نئی قیمتوں کا تعین کر دیا گیا،
وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف کل پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کا اعلان کریں گے۔
حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بجلی کے نرخوں میں 8 روپے فی یونٹ تک کمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا،
پاور ڈویژن جنوری یکم، 2025 سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے لیے ٹیرف پٹیشن جمع کروانے جا رہا ہے۔
لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو) کے اہلکاروں کی طرف سے ایک بیوٹی پارلر پر بجلی چوری کے معاملے پر گلوکار جواد احمد اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مبینہ طور پر محکمے کے متعدد اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
آئی پی پیز میں مفادات رکھنے والے ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) نے مبینہ طور پر چیئرمین نیپرا سے ٹیرف کے تعین میں اس حد تک ترمیم کے لیے رابطہ کیا ہے
حکومت آئی پی پیز کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ’ٹیک یا پے‘ سے ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ میں تبدیل کرنے کے لئے دستیاب آپشنز پیش کیا جاسکے۔
وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ 4,267 میگاواٹ پیدا کرنے والے 18 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کو ادائیگیاں روک دے ، کیونکہ حکومت ان کے ساتھ معاہدے کی تبدیلی پر بات چیت جاری ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے کے الیکٹرک کی نجکاری کے عمل کی تفصیلات طلب کر لیں جبکہ دوران اجلاس حکام پاور ڈویژن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی کپیسٹی اتنی نہیں تھی جتنا ان کو دے دیا گیا۔
حکومت نے نجی آئی پی پیز اور سرکاری پاور ہاؤسز کے درمیان فرق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات پاور سیکٹر اصلاحات کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی ہے جو آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آئی پی پیز کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دہی کے حقائق منظر عام پر آگئے جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض بجلی گھروں نے غلط معاہدوں کے باعث بغیر بجلی پیدا کیے حکومت سے اربوں روپے وصول کیے۔
حکومت کے تفتیش کاروں نے مبینہ طور پر درجنوں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، کیونکہ کچھ مالکان خاموش مزاحمت کررہے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ وہ صرف معاہدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔