جون میں بجلی نرخ بڑھنے سے صارفین محفوظ
حکومت نے بروقت اقدامات اور پالیسی فیصلوں کے ذریعے جون 2026 میں بجلی صارفین کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے سے بچا لیا، جبکہ صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ تک ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
ہیش ٹیگ
حکومت نے بروقت اقدامات اور پالیسی فیصلوں کے ذریعے جون 2026 میں بجلی صارفین کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے سے بچا لیا، جبکہ صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ تک ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
کراچی میں شدید گرمی کے باوجود اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے۔
National Electric Power Regulatory Authority نے مارچ کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 27 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی،
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر اور پروزیومر ریگولیشنز 2026 سے متعلق ایک نیا مسودہ جاری کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنایا جا سکے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کا پرانا نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے 28.5 ملین سے زائد گھریلو بجلی صارفین پر ماہانہ فکسڈ چارج 200 سے 675 روپے تک عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونِس علوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین، یعنی پروزیومرز، کو دیے جانے والے مالی فوائد میں کمی کی تجاویز پر عوامی سماعت طلب کر لی ہے۔ یہ سماعت 6 فروری 2026 کو ہوگی، جس میں شہریوں، سرکاری اداروں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر پاور و توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی حالیہ رپورٹ کو ناقص، تاخیر کا شکار اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ نے پاور سیکٹر کی اصل صورتحال پیش نہیں کی اور اس سے غیر ضروری غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی سالانہ رپورٹ ”اسٹیٹ آف انڈسٹری 2025“ جاری کر دی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بجلی صارفین پر عائد ڈیبٹ سرچارج (قرض کی ادائیگی کا اضافی چارج) 3.23 روپے فی یونٹ جاری رہے گا، جو پانچ سے چھ سال تک برقرار رہے گا۔
پاکستان نے 36 ارب ڈالر کے توانائی شعبے کے مہنگے قرضوں کی ری فنانسنگ کے لیے ورلڈ بینک سے رابطہ کیا ہے۔ یہ قرضے ماضی میں پاور پراجیکٹس کی تنصیب کے لیے لیے گئے تھے، جن میں زیادہ تر چینی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گئے کمرشل قرضے شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف میں کسی تبدیلی کے بغیر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کیلنڈر سال 2026 (جنوری سے دسمبر) کے لیے قومی اوسط یونیفارم بجلی ٹیرف کو 62 پیسہ فی یونٹ کم کردیا ہے، جس سے یہ 33.38 روپے فی کلو واٹ آور ہوگیا ہے جو کہ پچھلے مالی سال 2025-26 کے 34.00 روپے فی کلو واٹ آور سے کم ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں بجلی کے نرخوں میںسہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی، جس کے بعد تین ماہ کے لیے 45 پیسے فی یونٹ اضافہ متوقع ہے۔
جامشورو پاور پلانٹ اور دو ایل این جی سے چلنے والے منصوبے دوبارہ نجکاری پروگرام کا حصہ بن گئے، حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی شعبے کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے-الیکٹرک کے 2024 تا 2030 کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف (MYT) کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ایسے ڈھانچہ جاتی نقائص درست کر دیے ہیں