اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ
ملک میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
ہیش ٹیگ
ملک میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
رواں مالی سال 26-2025 کے شروع ہوتے ہی ملک میں مہنگائی نے بھی سر اٹھانا شروع کردیا ہے
وفاقی حکومت نے مالی سال 25-2024 کے لیے مقرر کردہ مہنگائی کا ہدف حاصل کرلیا، گزشتہ مالی سال کے دوران اوسط افراط زر 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ملک میں مہنگائی کا پارہ چڑھنے لگا، ایک ہفتے کے دوران چینی، آلو، آٹے، مٹن بیف سمیت 23 اشیا مہنگی ہو گئیں۔
عیدالاضحیٰ اور بجٹ قریب آتے ہی ملک بھر میں اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.81 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 0.41 فیصد تک محدود رہی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 تا اپریل 2025 کے دوران تجارتی خسارہ 8.81 فیصد بڑھ کر 21 ارب 35 کروڑ ڈالرز سے تجاوز کر گی
ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح میں 0.15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح منفی 2.41 فیصد رہی۔
ملک میں ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 1.92 فیصد کی مزید کمی ہوئی ہے، مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح منفی3.52فیصد ہوگئی۔
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تجارتی خسارہ کے ساتھ ساتھ برآمدات اور درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
حکومت نے مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ دوسری جانب ایک ہفتے کے دوران 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس دوران کئی اشیا مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔
حکومت نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی کا دعویٰ کردیا۔
فروری میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار حکومتی تخمینوں سے بھی نیچے آگئی، سالانہ بنیاد پر فروری میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.52 فیصد ریکارڈ کی گئی، حکومت نے مہنگائی 2 سے 3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔
رمضان المبارک سے قبل ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ افراط زر کی سالانہ شرح 1.21 فیصد پر آگئی۔
حکومت نے شرحِ مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جس کے مطابق 13 اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ (جولائی 2024 تا جنوری 2025) کے دوران برآمدات، درآمدات اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہو گیا۔
حکومت نے مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ ایک ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ملک بھر میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر مسلسل تیسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی،ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.39 فیصد کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر 1.16 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں ایک ہفتے کے دوران 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
مرغی کے گوشت کی قیمت کو پَر لگ گئے، کراچی، پشاور، راولپنڈی سمیت ملک مختلف شہروں میں مرغی کے گوشت کی قیمت 300 روپے تک کا ہوشربا اضافہ ہوگیا، کراچی میں چکن 740 سے 800 روپے فی کلو فروخت ہونے لگی۔
ملک میں قلیل مدتی مہنگائی میں مسلسل تین ہفتے اضافے کے بعد 0.26 فیصد کی کمی ہوگئی تاہم 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی سالانہ مجموعی شرح 3.97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ہفتہ وار مہنگائی میں مسلسل تیسرے ہفتے بھی اضافہ ہوگیا، قلیل مدتی مہنگائی کی شرح 0.8 فیصد بڑھ گئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد ہوگئی۔
ملک میں مسلسل دوسرے ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر، لہسن، گھی، کوکنگ آئل، چینی سمیت پندرہ اشیائے ضروریہ مہنگی ہوگئیں۔