18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 11 کے نرخوں میں کمی
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،11اشیاء کے دام گر گئے۔
ہیش ٹیگ
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،11اشیاء کے دام گر گئے۔
ملک کے تجارتی خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر7.4 فیصد اورنومبرمیں ماہانہ بنیادوں پر18.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق نومبر 2024 میں مہنگائی کی سالانہ شرح 4.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ اکتوبر 2024 میں یہ 7.2 فیصد تھی ۔
ملک میں مسلسل تین ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافے کے بعد مہنگائی کی شرح میں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے تاہم حالیہ ہفتے 12 اشیاء مہنگی اور 9 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 30اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات ہفتہ وار مہنگائی کے جاری اعدادو شمار کے مطابق مہنگائی میں مسلسل چوتھے ہفتے اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ہفتے آلو، پیاز، ٹماٹر اور گھی سمیت سترہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بڑھ گئی۔ مہنگائی کی سالانہ شرح 14.45 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے جب کہ 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔
ادارہ شماریات نے مہنگائی کے ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کردیے۔ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.08 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 13.18 فیصد ریکارڈ کی گئی،
ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے پہلے تین ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ معمولی طور پر بڑھ کر 5.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
محکمہ ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔
قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 8 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران تنزلی کے بعد کم ہو کر 16.86 فیصد آگئی۔
ملک میں رواں مالی سال 25-2024کے وفاقی بجٹ کے نفاذ کے بعد سے ایک ہفتے معمولی کمی کے بعد مہنگائی کی شرح میں پھر سے اضافہ ہوگیا
نئے مالی سال کے مسلسل چوتھے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں رواں مالی سال 2024-25 کا وفاقی بجٹ نافذ ہونے کے بعد مسلسل تین ہفتوں سے مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان بدستور جاری ہے۔
آئی ایم ایف نے عالمی معیشتوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کی پیداوار میں تنوع کم ہوگیا ہے، مہنگائی اور بڑھنے کا خطرہ اور سود کی شرح میں اضافے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
ملک میں ہفتہ وار مہنگائی مزید 0.11 فیصد بڑھ گئی جبکہ مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 23.33 فیصد ہوگئی۔
وفاقی حکومت مہنگائی کاسالانہ ہدف حاصل کرنےمیں ناکام ہوگئی، مالی سال2023-2024 میں ملک میں اوسط مہنگائی 23.41 فیصد رہی جبکہ مالی سال2023۔2024 کے لیے مہنگائی کا سالانہ ہدف 21 فیصد مقرر تھا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 1.30 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔
بجٹ سے قبل مہنگائی بڑھ گئی، ہفتہ وار بنیادوں پر افراط زر میں 0.45 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔
ادارۂ شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کم ہوئی ہے، جو گزشتہ 1 سال میں 38 فیصد سے 11.8 فیصد پر آ گئی۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی(NAC) کل کےاجلاس میں معاشی ترقی اعداد وشمار کے تخمینہ کی منظوری دی جائیگی ،
قلیل مدتی مہنگائی 9 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر تنزلی کے بعد 22.32 فیصد پر آگئی۔
ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق پاکستان بھر میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 17.34 فیصد ریکارڈ کی گئی۔