سردیوں کا مزہ دگنا: بازاروں میں گاجروں کی بہار
جنوری کی شدید سردی میں پنجاب، سندھ اور ملک بھر کے بازاروں میں تازہ سرخ گاجریں کی آمد نے شہریوں کے چہرے روشن کر دیے۔
ہیش ٹیگ
جنوری کی شدید سردی میں پنجاب، سندھ اور ملک بھر کے بازاروں میں تازہ سرخ گاجریں کی آمد نے شہریوں کے چہرے روشن کر دیے۔
سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی پاکستانی گھروں میں سوجی کے حلوے کی خوشبو پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔
دیسی مکھن، جو گھر میں ملائی سے تیار کیا جاتا ہے، نہ صرف ذائقہ دار ہوتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی متعدد فوائد کا حامل ہے۔
سردیوں کا موسم آتے ہی شمالی پاکستان کے علاقوں جیسے دیر، سوات، گلگت اور کشمیر میں املوک کا ڈرائی فروٹ بازاروں میں نظر آنے لگتا ہے۔
پاکستان بھر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی امرود کی میٹھی اور رسیلی فصل بازاروں میں پہنچ گئی ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع خانپور ڈیم نہ صرف پکنک پوائنٹ اور سیاحتی مقام کے طور پر مشہور ہے بلکہ یہاں کی زرخیز زمینیں پاکستان کی سب سے لذیذ اور معیاری مالٹے (نارنگی) کی پیداوار کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
نیدرلینڈز کی ماسٹرخ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق، ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے صرف کھڑکی کے پاس بیٹھ کر قدرتی دھوپ کا سامنا کرنا بھی خون میں شوگر کی سطح کو بہتر بنانے میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
جیسے ہی پاکستان میں سردی کی لہر ڈیرے ڈالتی ہے، ملک بھر کے بازاروں اور فوڈ اسٹریٹس میں مچھلی کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ لاہور کی مشہور 'بشیر دار الماہی' ہو یا کراچی کے ساحلی علاقوں کے تازہ پکوان، مچھلی سردیوں کا سب سے مقبول انتخاب بن کر ابھرتی ہے۔
جیسے جیسے دنیا بھر میں سردیوں کی ٹھنڈک بڑھ رہی ہے، غذائی ماہرین ایک بار پھر مونگ پھلی (جسے گراؤنڈ نٹ بھی کہا جاتا ہے) کو موسم سرما کے لیے بہترین ناشتے کے طور پر سراہ رہے ہیں۔
سردیوں کا موسم آتے ہی بازاروں اور ریڑھیوں پر سنگھاڑے کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ یہ پانی میں اگنے والا پھل نہ صرف مزیدار ہوتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔
سہانجنا، جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے، کا سالن پاکستانی گھریلو دسترخوان کا ایک روایتی مگر غذائیت سے بھرپور کھانا ہے، جو خاص طور پر سردیوں کے موسم میں صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین صحت نے بڑھتی ہوئی اسموگ کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ فضائی آلودگی سانس، آنکھوں اور دل کے امراض کا سبب بن سکتی ہے۔
سردیوں کا موسم آتے ہی الماریوں سے پرانے اونی سوئیٹر اور گرم کپڑے نکالے جاتے ہیں، مگر یہ گرم جرسیاں اکثر خارش، جلن اور جلدی دانوں کا باعث بن جاتی ہیں۔
سردیوں کا موسم آتے ہی نزلہ، زکام، کھانسی اور گلے کی خراش جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں قدرتی شہد صحت کے لیے ایک بہترین ساتھی ثابت ہوتا ہے۔
موسمِ سرما میں جسم کو گرم رکھنے اور قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے خشک میوہ جات اور گریاں بہترین قدرتی ذریعہ ہیں، لیکن ماہرینِ غذائیت نے خبردار کیا ہے کہ ان کا بےجا اور زیادہ استعمال نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
پھل ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید اور ضروری ہیں، یہ بات سب جانتے ہیں۔ لیکن پھلوں کو کب کھانا چاہیے اور کیا خالی پیٹ پھل کھانا فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟ یہ سوال سالوں سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ پھل ہمیشہ خالی پیٹ ہی کھانے چاہییں۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) نے سال کی آخری ملک گیر انسداد پولیو مہم کا اعلان کر دیا ہے۔
ماہرینِ امراضِ جلد (ڈرمیٹالوجسٹس) کے مطابق سردیوں کا موسم جلد کی مختلف بیماریوں کا سب سے بڑا خطرہ لے کر آتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق روزانہ دو کپ مالٹے کا جوس پینے سے جسم میں نمایاں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں اور مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔ تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ مالٹے کے جوس کے باقاعدہ استعمال سے مدافعتی نظام اور قلبی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوپ بیماری کا علاج نہیں، مگر نزلہ زکام میں جسم کو سہارا دے کر صحت یابی کے عمل کو تیز کرتا ہے
سردی کا موسم کئی ایسے قدرتی غذائی ذرائع ساتھ لاتا ہے جو انسانی جسم کے لیے اہم وٹامنز فراہم کرتے ہیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق سردیوں میں خاص طور پر وٹامن سی، وٹامن ڈی اور وٹامن اے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، اور موسم میں آنے والی سبزیاں اور پھل ان ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق پستہ روزمرہ خوراک میں شامل کرنے سے دل، وزن اور خون کی صحت میں اہم فوائد دیکھے گئے ہیں۔ نئی غذائی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خشک میوہ انسانی جسم کو قدرتی پروٹین، صحت مند چکنائی اور فائبر فراہم کرتا ہے، جو مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
غذائی ماہرین نے سردیوں میں دہی کھانے سے نزلہ یا زکام ہونے کے عام تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہی کا استعمال بیماری کا سبب نہیں بنتا بلکہ مجموعی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف بہت ٹھنڈے درجہ حرارت والی خوراک کے استعمال سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ خود دہی سے۔
نئی عالمی تحقیق کے مطابق، جہاں 25-ہائڈروکسی-وٹامن ڈی [25(OH)D] کی سطح 30 nmol/L یا اس سے کم ہو، وہاں ڈپریشن کا امکان نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔