ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے پاک سری لنکا ٹی ٹوئنٹی اور سہ فریقی ون ڈے سیریز کے لیے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیڈیم میں 4 اکتوبر سے 13 نومبر 2026 تک پریکٹس میچز سمیت سات میچز کھیلے جائیں گے۔
سیکیورٹی کے پیش نظر ڈبل روڈ پر واقع فوڈ اسٹریٹ 3 اکتوبر سے بند کر دی گئی ہے اور ٹریفک پولیس نے متبادل راستے بتائے ہیں۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم سیکیورٹی کے لیے اضافی نفری اور آلات
کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دوسرے اضلاع سے 1500 سے زائد اضافی پولیس اہلکار بلائے گئے ہیں، جن میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (SPU) اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ان کے ساتھ 50 اسنائپرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا کی آئی جی پنجاب سے درخواست پر گجرات اور شیخوپورہ سے بھی اضافی نفری سی پی او کے اختیار میں دی گئی۔ اس کے علاوہ 200 واکی ٹاکی سیٹس اور 20 پولیس پک اپ گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں، جو اتوار کی رات 8 بجے تک راولپنڈی پولیس لائنز پہنچا دی جائیں گی۔
نگرانی، میڈیکل اور ٹریفک کے انتظامات
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم سیکیورٹی کے تحت اسٹیڈیم میں واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جبکہ داخلی دروازے پر نادرا تصدیقی کاؤنٹر قائم ہے۔ راستوں سے تجاوزات ہٹائی جا چکی ہیں اور اسپورٹس کمپلیکس میں کنٹرول روم بنایا گیا ہے۔ سیف سٹی نظام کے علاوہ اسٹیڈیم اور راستوں پر 200 مزید کیمرے لگائے جائیں گے۔
ہنگامی صورتحال کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) میں 30 بستروں کا فیلڈ اسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم پر سول ڈیفنس کا بم ڈسپوزل اسکواڈ پورے میچز کے دوران موجود رہے گا، جبکہ ابتدائی طبی امداد کی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی قریب تعینات ہوگی۔
ٹریفک کی روانی کے لیے تماشائیوں کی پارکنگ راول پارک کے کھلے حصے اور سیٹلائٹ ٹاؤن کالج میں ہوگی، جہاں سے شٹل سروس انہیں اسٹیڈیم کے داخلی دروازے تک پہنچائے گی۔ آئیسکو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائے گی اور راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (RWMC) اسٹیڈیم کے اطراف صفائی کا انتظام سنبھالے گی۔ ڈبل روڈ اور اطراف کی سڑکوں کی مرمت مکمل اور اسٹریٹ لائٹس درست کر دی گئی ہیں۔
کمشنر کا مؤقف
کمشنر سلمان غنی نے کہا کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ سہولیات بہتر بنائی جا رہی ہیں تاکہ آنے والے کھلاڑی پاکستان کی مہمان نوازی اور پرامن ماحول کا تجربہ کریں، اور ان کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر جائے۔
انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ انتظامات میں کوئی کوتاہی نہ ہو، اور شہریوں سے قومی مفاد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون اور نظم و ضبط کی اپیل کی۔ اجلاس میں پی ایس ایل حکام، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن، ایس ایس پی آپریشنز، پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر محکموں کے سربراہان شریک ہوئے۔