پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 5 اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔
سیریز کا آغاز 9 اکتوبر کو راولپنڈی میں ہو گا۔ پی سی بی کے مطابق صاحبزادہ فرحان سلمان علی آغا کی جگہ نئے پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان ہوں گے۔
پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان کی تبدیلی: اسکواڈ میں کیا بدلا؟
نئے پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان کے ساتھ ٹیم میں فخر زمان، شاداب خان اور نسیم شاہ کی واپسی ہوئی ہے۔ بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نہیں، تاہم وہ ون ڈے ٹیم کا حصہ ہیں۔ ون ڈے ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کریں گے۔

ون ڈے ٹرائی سیریز: بابر کی واپسی
پی سی بی نے سری لنکا اور انگلینڈ کے ساتھ سات میچوں کی ون ڈے ٹرائی سیریز کے لیے بھی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔ یعنی ایک ہی بورڈ فیصلے میں ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان نیا ہے اور ون ڈے میں الگ کپتان کے تحت ٹیم میدان میں اترے گی۔ دستیاب اعلامیے میں مکمل کھلاڑیوں کی فہرست اور ٹرائی سیریز کے شیڈول کی تفصیل شامل نہیں۔
تجزیہ: ٹیم کی تشکیلِ نو یا تجربہ؟
پی سی بی کے اس فیصلے کو ٹیم کی ازسرنو تعمیر کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، مگر کئی سوال جواب طلب ہیں:
- سلمان علی آغا کو ہٹانے کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ نئے پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان کی تقرری کا معیار بھی واضح نہیں۔
- بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی سے باہر رکھنے اور ون ڈے میں شامل کرنے کی کرکٹنگ منطق بورڈ نے نہیں بتائی۔
- فخر، شاداب اور نسیم کی واپس بلائی گئی صفوں میں کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب ہوا یا بورڈ کی ترجیحات پر، یہ بھی بتایا نہیں گیا۔
شائقین کا ردعمل
اطلاعات کے مطابق شائقینِ کرکٹ کی رائے منقسم ہے۔ کچھ نئی قیادت اور نئے چہروں کا خیرمقدم کر رہے ہیں، جبکہ کچھ جانے پہچانے ستاروں کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان کے انتخاب پر بحث سوشل میڈیا پر جاری ہے۔
صاحبزادہ فرحان، جنہیں پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر کیا گیا ہے، سری لنکا کے خلاف سیریز کی تیاری کے دوران