پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے 2026 ایشین گیمز کے کانسی کے تمغے کے میچ میں بنگلادیش ویمنز ٹیم کو 31 رنز سے شکست دے کر پاکستان ویمنز برانز میڈل اپنے نام کر لیا۔
آج نیشین کے کوروگی سپورٹس پارک میں کھیلے گئے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی پاکستان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنائے، جواب میں بنگلادیش ٹیم 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر صرف 114 رنز ہی بنا سکی۔

پس منظر: سیمی فائنل کی مایوسی سے کانسی کے تمغے تک کا سفر
پاکستان ٹیم کو ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس نے آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے سونے کے تمغے کے میچ میں جگہ بنائی۔
دوسری جانب بنگلادیش کو سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں 114 رنز کی بھاری شکست ہوئی تھی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 2023 کے ہانگژو ایشین گیمز میں بنگلادیش نے پاکستان کو کانسی کے تمغے کے میچ میں ہرایا تھا، اس لیے آج کی کامیابی کو پاکستان ٹیم کی جانب سے اس شکست کا بدلہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان ماضی میں 2010 اور 2014 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکی ہے۔ آج ہی سونے کے تمغے کے میچ میں بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔
سوشل میڈیا اور شائقین کا ردعمل
فتح کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جانے لگا۔
ایکس اور فیس بک پر متعدد صارفین نے ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور خاص طور پر بولنگ لائن اپ کی کارکردگی کو سراہا جس نے بنگلادیش کو ہدف سے کافی دور روک دیا۔
کئی شائقین نے 2023 کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے اسے "شاندار جواب" قرار دیا، جبکہ خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مطالبات بھی سامنے آئے۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جیت میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کلیدی ثابت ہوا، جس نے ٹیم کو دباؤ ڈالنے کا موقع دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیم سونے کے تمغے سے محروم رہی، تاہم کانسی کا تمغہ خواتین کرکٹ کی مسلسل ترقی کی نشاندہی کرتا ہے اور کپتان فاطمہ ثنا کی قیادت میں ٹیم نے دباؤ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ماہرین نے مستقبل میں مزید بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کو ٹیم کی مسلسل بہتری کے لیے ضروری قرار دیا۔