ایشین گیمز ویمنز کرکٹ مقابلوں کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان سری لنکا ویمن کرکٹ مقابلہ سری لنکا کی فتح پر ختم ہوا، جس کے ساتھ ہی پاکستان ویمن ٹیم کا فائنل تک رسائی کا سفر رک گیا۔
20 ستمبر 2026 کو کھیلے گئے اس میچ میں سری لنکا ویمن نے 20 اوورز میں 178 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے صرف 17.8 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا اور 13 گیندیں باقی رہتے ہوئے 8 وکٹوں سے کامیابی سمیٹی۔
پس منظر: میچ کیسے آگے بڑھا؟
پاکستان ویمن نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز کا مجموعہ اکٹھا کیا۔ اننگز کا سب سے نمایاں پہلو عائشہ ظفر اور شعوال ذوالفقار کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 115 رنز کی شراکت رہی، جس نے بسمہ معروف اور جویریہ خان کے 109 رنز کے پرانے ریکارڈ کو توڑ دیا اور یہ خواتین ٹی20 انٹرنیشنلز میں پاکستان ویمن کی تیسری وکٹ کی اب تک کی سب سے بڑی شراکت قرار پائی۔
جواب میں سری لنکا ویمن کی اننگز چماری اٹاپاٹو کی جارحانہ بلے بازی کے گرد گھومتی رہی، جنہوں نے 50 گیندوں پر 83 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 7 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے، ان کا اسٹرائیک ریٹ 166.00 رہا۔ ہاشیتھا سمراوکرما نے بھی 12 گیندوں پر 17 رنز بنا کر ٹیم کو کامیابی تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ اس میچ کا مجموعی اسکور 358 رنز رہا، جو پاکستان ویمن اور سری لنکا ویمن کے درمیان خواتین ٹی20 انٹرنیشنلز کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعی اسکور ہے۔
پاکستان کی جانب سے نشرہ سندھو سب سے کامیاب بولر رہیں جنہوں نے 3.5 اوورز میں 38 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ عائشہ ظفر نے ایک اوور میں 11 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکیں۔
سماجی رابطوں پر ردعمل
سوشل میڈیا پر مداحوں نے عائشہ ظفر اور شعوال ذوالفقار کی ریکارڈ ساز شراکت کو خوب سراہا، تاہم باؤلنگ لائن اپ کی کارکردگی، خاص طور پر آخری اوورز میں دیے گئے رنز پر تنقید بھی دیکھنے میں آئی۔ چماری اٹاپاٹو کی جارحانہ اننگز کو مداحوں نے میچ کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا۔
ماہرینِ کرکٹ کا تجزیہ
کرکٹ مبصرین کے مطابق پاکستان ویمن کی بیٹنگ نے مڈل آرڈر میں 115 رنز کی شراکت کے ذریعے مضبوط بنیاد فراہم کی، مگر باؤلنگ اٹیک سری لنکا کی جارحانہ اوپننگ جوڑی، خاص طور پر چماری اٹاپاٹو، کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹاپ آرڈر کی تیز رفتار بیٹنگ کے سامنے ابتدائی وکٹیں حاصل نہ کر پانا شکست کی بنیادی وجہ بنا۔