دانتوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ منہ کی صحت کو معمولی مسئلہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ منہ میں ظاہر ہونے والی کئی علامات ذیابیطس، دل کے امراض، جگر کی بیماری اور بعض اقسام کے کینسر کی ابتدائی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دانت میں درد شروع ہوتا ہے، مسئلہ اکثر مہینوں یا برسوں سے پنپ رہا ہوتا ہے۔
منہ کی صحت اور جسم کا تعلق
امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ہر تین میں سے ایک امریکی، یعنی تقریباً 10 کروڑ افراد، باقاعدگی سے دانتوں کا معائنہ نہیں کراتے۔ سی ڈی سی کا اندازہ ہے کہ 20 سے 64 سال کی عمر کا ہر پانچواں بالغ کم از کم ایک ایسے دانت کے ساتھ جی رہا ہے جس کی خرابی کا علاج نہیں ہوا۔
نیویارک کے ڈینٹسٹ ڈاکٹر یِیو داویدوف کے بقول منہ جسم کا وہ واحد حصہ ہے جہاں معالج ہڈی، نرم بافتیں، خون کی رگیں اور بیکٹیریا بیک وقت بغیر کسی چیر پھاڑ کے دیکھ سکتا ہے۔ منہ میں اربوں اچھے اور برے بیکٹیریا ہوتے ہیں، اور مسوڑھے سوج کر خون دینے لگیں تو یہ جراثیم خون کی نالیوں کے ذریعے دل جیسے اہم اعضا تک پہنچ سکتے ہیں۔
پہلی علامت: دانت کا درد
ماہرین کے مطابق دانت کا درد ابتدائی نہیں بلکہ دیر سے ظاہر ہونے والی علامت ہے۔ منہ کے بیکٹیریا شکر اور نشاستے سے تیزاب بناتے ہیں، جو پلاک (دانتوں پر چپکنے والی تہہ) بناتا ہے۔ صفائی نہ ہو تو یہ سخت ہو کر ٹارٹر بن جاتی ہے اور دانت میں سوراخ (کیویٹی) پڑ جاتا ہے۔
ابتدائی کیویٹی میں درد نہیں ہوتا۔ سڑن اعصاب تک پہنچے تو درد شروع ہوتا ہے۔ آرتھوڈونٹسٹ ڈاکٹر کامی ہاس کے مطابق اعصاب مر جائیں تو درد ختم ہو سکتا ہے، مگر خطرہ ٹلتا نہیں اور معاملہ جبڑے کی ہڈی میں پیپ کی تھیلی (ایبسیس) تک جا سکتا ہے۔ ایسا انفیکشن جبڑے، سائنس اور چہرے و گردن کے نرم حصوں تک پھیل سکتا ہے۔ ڈاکٹر داویدوف کے مطابق ابتدا میں پکڑی گئی کیویٹی صرف معمولی فلنگ مانگتی ہے، جبکہ دیر ہو جائے تو روٹ کینال، کراؤن یا دانت نکلوانا پڑتا ہے۔
دوسری علامت: مسوڑھوں سے خون یا سوجن
ڈاکٹر ہاس کے مطابق مسوڑھے "حساس" نہیں ہوتے، وہ متورم ہوتے ہیں، اور سوجن کا مطلب ہے کہ منہ اور خون کے درمیان حفاظتی دیوار ٹوٹ چکی ہے۔ ابتدا میں یہ مسوڑھوں کی سوزش (جنجیوائٹس) ہوتی ہے، مگر کئی ہفتے برقرار رہے تو پیریوڈونٹائٹس میں بدل سکتی ہے، جس میں سوزش ہڈی کو تباہ کرتی ہے اور وہ دوبارہ نہیں بنتی۔ یہ بالغوں میں دانت گرنے کی بڑی وجہ ہے۔
ماہرین کے بقول مسوڑھوں کی شدید بیماری دل کے امراض، فالج اور بے قابو ذیابیطس سے منسلک رہی ہے۔ نایاب صورتوں میں ضرورت سے زیادہ سوجے، جامنی یا بہت زیادہ خون دینے والے مسوڑھے لیوکیمیا یا خون جمنے کے عارضے کی پہلی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ساتھ بخار، تھکن یا جسم پر نیل پڑیں تو ڈاکٹر ہاس کے مطابق یہ ڈاکٹر سے رجوع کا معاملہ ہے، صرف ڈینٹسٹ کا نہیں۔
تیسری علامت: ڈھیلے دانت
بالغ افراد میں ڈھیلا دانت ہمیشہ مسئلے کی علامت ہے۔ عام وجہ مسوڑھوں کی پرانی بیماری ہے، جبکہ رات کو دانت پیسنے کی عادت بھی دانتوں کو آہستہ آہستہ ڈھیلا کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر داویدوف کے مطابق ہڈی ختم ہو جائے تو بعد میں امپلانٹ لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
نایاب صورتوں میں بغیر کسی واضح وجہ کے ایک ڈھیلا دانت جبڑے میں رسولی یا سسٹ کی علامت ہو سکتا ہے، جس کے لیے امیجنگ اور باقاعدہ تشخیص ضروری ہے۔
چوتھی علامت: مستقل بدبو یا برا ذائقہ
لہسن یا مچھلی سے آنے والی بو چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر برش کے بعد بھی بدبو رہے تو ڈاکٹر ہاس کے مطابق یہ "صفائی کی کمی نہیں بلکہ تشخیص طلب مسئلہ" ہے۔ وجوہات میں مسوڑھوں کے نیچے پھنسے بیکٹیریا، گہری کیویٹیاں اور زبان کی صفائی میں کوتاہی شامل ہیں۔ منہ کا خشک ہونا بھی بڑی وجہ ہے، اور کئی عام ادویات، منہ سے سانس لینا اور الکحل والے ماؤتھ واش لعاب کم کر دیتے ہیں۔
مستقل بدبو یا برا ذائقہ خودکار مدافعتی بیماری سیوگرین اور گردوں کی بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جس میں یوریا لعاب میں امونیا بن کر تیز بو پیدا کرتا ہے۔
پانچویں علامت: نہ بھرنے والے چھالے
عام چھالے اکثر گال کٹنے سے ہوتے ہیں، لیکن ڈاکٹر داویدوف کا اصول ہے کہ منہ میں کوئی زخم، گلٹی، سفید یا سرخ دھبہ دو ہفتے میں ٹھیک نہ ہو تو اسے "دیکھنا نہیں، دکھانا" چاہیے۔ خاص طور پر زبان کے کنارے کا زخم منہ کے کینسر کی علامت ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں سالانہ تقریباً 60 ہزار افراد منہ کے کینسر کا شکار ہوتے اور 13 ہزار جان سے جاتے ہیں۔ بار بار نکلنے والے چھالے فولیٹ، آئرن اور بی 12 کی کمی یا لیوپس جیسی بیماریوں سے بھی جوڑے گئے ہیں۔
آگاہی اور عوامی رجحان
یہ رپورٹ بنیادی طور پر امریکی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ منہ کی صحت سے متعلق پاکستان کے تازہ اعداد و شمار اس رپورٹ میں شامل نہیں، تاہم باقاعدہ معائنہ نہ کروانے اور تکلیف بڑھنے پر ہی ڈاکٹر کے پاس جانے کا رجحان ہمارے ہاں بھی عام مشاہدے میں ہے۔ سوشل میڈیا ردعمل کے حوالے سے ہمارے پاس تصدیق شدہ ڈیٹا موجود نہیں، اس لیے اسے شامل نہیں کیا گیا۔
ماہرین کی رائے اور ایک ضروری احتیاط
ڈاکٹر داویدوف کے مطابق احتیاط پیچیدہ نہیں: دن میں دو بار فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ سے برش، فلاسنگ، تمباکو سے پرہیز، پانی کا استعمال، اور سال میں کم از کم دو بار پیشہ ورانہ معائنہ و صفائی۔ مسوڑھوں کی بیماری کی تاریخ رکھنے والوں کو تین سے چار ماہ بعد معائنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر ہاس کے بقول "منہ کی دیکھ بھال بھی طبی دیکھ بھال ہے۔"
تاہم قارئین کو چند باتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ یہ آرا چند ڈینٹسٹوں کی ہیں، جن میں سے بعض نجی کلینک یا اپنی کمپنی چلاتے ہیں۔ مسوڑھوں کی بیماری اور دل یا ذیابیطس کے درمیان تعلق کو "ایسوسی ایشن" کہا گیا ہے، یعنی ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کی وجہ ہو۔ لیوکیمیا یا منہ کے کینسر جیسی علامات نایاب ہیں، اس لیے ہر خون آلود مسوڑھا کینسر نہیں۔ البتہ علامت برقرار رہے تو گھبرانے کے بجائے معالج سے رجوع ہی درست راستہ ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔