گھروں میں کھانے پینے کی اشیا کو زیادہ دیر تک تازہ رکھنے کے لیے فریج کا استعمال عام ہے، تاہم ماہرینِ خوراک کے مطابق ہر غذا کو ٹھنڈے درجہ حرارت میں محفوظ کرنا ضروری نہیں۔

بعض غذائیں فریج میں رکھنے سے اپنا قدرتی ذائقہ، خوشبو اور ساخت کھو سکتی ہیں، جبکہ کچھ اشیا کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے کمرے کا مناسب درجہ حرارت زیادہ موزوں ہوتا ہے۔

فوڈ اسٹوریج سے متعلق ایک رپورٹ میں ایسی 12 عام غذاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مخصوص حالات میں فریج کے بجائے کچن یا پینٹری میں محفوظ رکھنا بہتر ہے۔

شہد: شہد کو فریج میں رکھنے سے اس میں موجود قدرتی شکر کرسٹل کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے وہ گاڑھا اور دانے دار ہو جاتا ہے۔ اسے ہوا بند برتن میں کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنا بہتر ہے۔

آلو: کم درجہ حرارت آلو میں موجود نشاستے کو شکر میں تبدیل کر سکتا ہے، جس سے اس کا ذائقہ اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔ آلو کو ٹھنڈی، خشک اور تاریک جگہ پر کاغذی تھیلے میں رکھنا چاہیے۔

پیاز: ثابت پیاز کو تازہ رکھنے کے لیے ہوا کی مناسب آمدورفت ضروری ہے۔ اسے خشک اور تاریک جگہ پر ہوادار تھیلے یا ٹوکری میں رکھنا بہتر ہے۔ پیاز کو آلو سے الگ رکھنے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے۔

بیکری مصنوعات: کیک، بسکٹ اور دیگر بیکری اشیا کو فریج میں رکھنے سے ان کی ساخت اور تازگی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم کریم اور کسٹرڈ والی مصنوعات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے فریج میں رکھنا ضروری ہے۔

ٹماٹر: ٹماٹر کو فریج میں رکھنے سے اس کی خوشبو اور قدرتی ذائقہ متاثر ہو سکتا ہے۔ سرد درجہ حرارت اس کے پکنے کے عمل کو سست کر دیتا ہے، اس لیے ثابت ٹماٹر کو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنا بہتر ہے۔

ڈبل روٹی: اگرچہ فریج میں رکھنے سے ڈبل روٹی پر پھپھوندی لگنے کا امکان کم ہو سکتا ہے، لیکن سرد ماحول میں یہ جلد خشک اور باسی ہو جاتی ہے۔ زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے فریزر بہتر انتخاب ہے۔

سیب: سیب کو مختصر مدت کے لیے مناسب ٹھنڈی جگہ پر رکھا جا سکتا ہے، تاہم زیادہ عرصے تک اس کی تازگی اور خستگی برقرار رکھنے کے لیے فریج زیادہ موزوں ہے۔

ثابت خربوزے اور تربوز: انہیں کاٹنے سے پہلے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم کاٹنے کے بعد ان کے ٹکڑوں کو فریج میں محفوظ کرنا ضروری ہے تاکہ جراثیم کی افزائش سے بچا جا سکے۔

کیلے: فریج میں رکھنے سے کیلے کا چھلکا وقت سے پہلے بھورا یا سیاہ پڑ سکتا ہے، جبکہ سرد درجہ حرارت ان کے قدرتی پکنے کے عمل کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہیں کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنا بہتر ہے۔

کافی: فریج میں موجود نمی اور دیگر غذاؤں کی خوشبو کافی کے ذائقے اور معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔ کافی کے دانوں کو ہوا بند برتن میں کسی خشک اور تاریک جگہ پر محفوظ رکھنا چاہیے۔

لہسن: ثابت لہسن کو فریج کے بجائے خشک اور ہوادار جگہ پر رکھنا بہتر ہے۔ نمی جمع ہونے سے اس پر پھپھوندی لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ چھیلے ہوئے یا کٹے ہوئے لہسن کو فریج میں محفوظ کرنا چاہیے۔

ہاٹ ساس: بازار میں دستیاب بعض ہاٹ ساس میں سرکہ اور محفوظ رکھنے والے اجزا شامل ہوتے ہیں، جو انہیں خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔ تاہم ہر قسم کی ہاٹ ساس کے لیے ایک جیسی ہدایات لاگو نہیں ہوتیں، اس لیے پیکنگ پر درج طریقہ کار کے مطابق انہیں محفوظ کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق غذاؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف فریج پر انحصار کرنے کے بجائے ان کی نوعیت، نمی، درجہ حرارت اور ذخیرہ کرنے کے درست طریقے کو سمجھنا ضروری ہے۔

ماہرین کی عمومی غذائی تحفظ کی ہدایات کے مطابق کٹی ہوئی غذائیں، جلد خراب ہونے والی اشیا اور دودھ یا کریم سے تیار کردہ مصنوعات کو مناسب ٹھنڈے درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے۔ درست اسٹوریج سے نہ صرف غذاؤں کا معیار برقرار رہتا ہے بلکہ کھانے کے ضیاع کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔