وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع متنازع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کو نئے سرے سے ترتیب دینے، اس کی دوبارہ ٹینڈرنگ اور کاروباری ماڈل تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ منصوبے کو اس کے ابتدائی تصور کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ منصوبے میں اپنی جائز آمدن سے فلیٹس خریدنے والے حقیقی خریداروں اور سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا، تاہم مبینہ بدعنوانی اور سرکاری قواعد کی خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف احتساب کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور دارالحکومت میں امیر و غریب کے لیے الگ الگ قانونی معیار نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ابتدائی معاہدوں، منصوبے سے وابستہ سرکاری حکام اور مختلف مراحل میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق حکومت منصوبے کی ازسرنو منصوبہ بندی کرے گی، اس کی ری ٹینڈرنگ اور ری ڈیزائننگ کے ساتھ کاروباری ماڈل میں بھی تبدیلی لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دیے جائیں گے جنہیں مبینہ بے ضابطگیوں یا معاہدے کی خلاف ورزیوں کا علم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات آئندہ تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد عدالتی کارروائی شروع ہوگی۔ ان کے مطابق وفاقی کابینہ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو سراہنے کے ساتھ اس کی توثیق بھی کی ہے۔

منصوبے کا کنٹرول حکومت کے پاس، فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کا اعلان

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ حاصل کر لیا ہے اور اب عمارت کو اس کے اصل تصور کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں سرکاری اراضی واگزار کرانے اور تجاوزات کے خاتمے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کیا انکشافات ہوئے؟

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کی منظوری 1997 میں وفاقی کابینہ نے ریڈ زون میں فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے دی تھی، جبکہ 2004 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس منصوبے پر عملی کام شروع ہوا۔

رپورٹ میں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے بعض سابق افسران کو منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے منسلک کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ساڑھے 13 ایکڑ اراضی پر فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ سی ڈی اے نے تعمیراتی کمپنی بی این پی اور عبدالحفیظ شیخ کو دو ٹاورز میں مجموعی طور پر 120 اپارٹمنٹس بنانے کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر سرکاری دستاویزات میں تبدیلی کے بعد اپارٹمنٹس کی تعداد 254 تک پہنچا دی گئی۔

جے آئی ٹی کے مطابق ان اپارٹمنٹس کے خریداروں سے مجموعی طور پر ساڑھے 9 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ متعلقہ دستاویزات اور ادائیگیوں کی رسیدیں بھی تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کی گئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ معاہدے کے تحت زمین کی مکمل قیمت ادا ہونے تک اس کی ملکیت سی ڈی اے کے پاس برقرار رہنی تھی۔

17 ارب روپے کی ادائیگی اور لیز منسوخی کا معاملہ

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا تنازع کئی برس سے عدالتی اور انتظامی کارروائیوں کا حصہ رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2019 میں منصوبے کو مخصوص شرائط کے تحت بحال کرتے ہوئے متعلقہ کمپنی کو سی ڈی اے کو 17 ارب روپے ادا کرنے کا پابند بنایا تھا۔

تاہم مطلوبہ ادائیگیاں اور مالی شرائط پوری نہ ہونے پر سی ڈی اے نے 2023 میں لیز منسوخ کر دی، جبکہ 2026 میں سپریم کورٹ نے بھی سی ڈی اے کے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیز کی اصل دستاویزات سی ڈی اے کے سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھیں بلکہ عبدالحفیظ شیخ نے تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان دستاویزات کے حصول کے حوالے سے بھی تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آئی۔

تحقیقات میں تعمیراتی نقشوں اور بینک آف پنجاب سے حاصل کیے گئے قرضوں کے معاہدے میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ اور تعمیراتی کمپنی بی این پی کو بلیک لسٹ کرنے اور مستقبل میں سرکاری ٹھیکے نہ دینے کی سفارش بھی کی ہے۔

فلیٹ مالکان کے معاوضے پر سوالات، سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ

حکومتی فیصلے کے بعد سب سے اہم سوال ان افراد کے مستقبل کا ہے جنہوں نے اپنی جمع پونجی سے اس منصوبے میں فلیٹس خریدے یا سرمایہ کاری کی تھی۔

معاشی ماہر اور منصوبے کے رہائشی ندیم الحق نے سوشل میڈیا پر حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلیٹ مالکان کو صرف ان کی اصل سرمایہ کاری اور اس پر منافع واپس کرنے کی پیشکش مناسب نہیں۔

ان کے مطابق معاوضے کا تعین موجودہ مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر ہونا چاہیے، کیونکہ خریداروں کو نہ صرف اپنے گھروں سے محروم ہونا پڑ رہا ہے بلکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جائیداد کی قدر میں اضافے اور سرمایہ کاری کے دیگر مواقع سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد بھی ضائع ہوئے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانونی طور پر جائیداد خریدنے والوں کو انتظامی اور ریگولیٹری ناکامیوں کا بوجھ اٹھانا پڑا تو مستقبل میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کا اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟

صحافی مہتاب حیدر نے بھی انفرادی ملکیتی حقوق کے تحفظ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے دھوکہ دہی یا بدعنوانی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، تاہم اپنی محنت کی کمائی سے فلیٹس خریدنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب بعض سوشل میڈیا صارفین نے حکومتی اقدام کو ریاستی عمل داری اور قانون کی بالادستی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا معاملہ اب محض ایک متنازع تعمیراتی منصوبے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سرکاری اراضی کے استعمال، ریگولیٹری اداروں کی نگرانی، جائیداد کے ملکیتی حقوق اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ منصوبے کو قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کرنے کے ساتھ حقیقی خریداروں کے مالی اور ملکیتی مفادات کا کس حد تک تحفظ کر پاتی ہے۔