وفاقی حکومت نے پی ایس او بورڈ کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے مصطفیٰ رمدے کو چیئرمین مقرر کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہو گا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمعہ کے روز بھیجے گئے کمپنی کے خط کے مطابق وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے 5 نومبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بورڈ آف مینجمنٹ کو تین سال کی مدت کے لیے نئے سرے سے تشکیل دیا ہے۔

کمپنی سیکرٹری عنبرین علی کے دستخط سے جاری اور ایس ای سی پی کو ارسال کردہ اس خط میں چیئرمین سمیت پانچ آزاد ارکان کے نام درج ہیں، جبکہ چار سابق آزاد ارکان کے 6 نومبر 2026 سے بورڈ کا رکن نہ رہنے کا بتایا گیا ہے۔ خط میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ نئے چیئرمین وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے قریبی عزیز ہیں۔

پی ایس او بورڈ میں کون آیا، کون گیا؟

مصطفیٰ رمدے نے اصف بیگ محمد کی جگہ چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے۔ دیگر آزاد ارکان میں معنیب الحق، آفتاب حسین، امتیاز حسین کاظی اور صائرہ شاہد حسین شامل ہیں۔ اصف بیگ محمد کے علاوہ ڈاکٹر عائشہ وقار، مشتاق ملک اور احمد جمال میر بھی پی ایس او بورڈ سے فارغ ہو گئے ہیں۔

سرکاری نمائندوں کی نشستیں ابھی جزوی طور پر ہی پُر ہوئی ہیں۔ پیٹرولیم، پاور اور فنانس ڈویژنز کے سیکرٹریز یا بی ایس 20 سے کم درجے کے نہ ہونے والے نمائندوں کی نشستیں درج ہیں، مگر نام نہیں دیے گئے اور کمپنی کے مطابق نام وزارت بتائے گی۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے سی ای او مسعود نبی بطور ایکس آفیشو رکن شامل ہیں، جبکہ پی ایس او کے سی ای او جواد احمد چیمہ واحد ایگزیکٹو رکن ہیں۔

اورنگزیب سے رشتہ اور پی ایس او بورڈ کا سوال

دستیاب عوامی ریکارڈ کے مطابق اسی نام کے مصطفیٰ رمدے، جو معروف قانون دان اور پنجاب کے سابق ایڈووکیٹ جنرل ہیں، کی بہن آمنہ رمدے کی شادی محمد اورنگزیب سے ہوئی ہے، جو رمدے خاندان کے بڑے بھائی کے بیٹے ہیں۔ اس لحاظ سے نئے چیئرمین وزیر خزانہ کے کزن اور بہنوئی بنتے ہیں۔ تاہم وزارت یا پی ایس او نے یہ تصدیق نہیں کی کہ مقرر کیے گئے چیئرمین وہی مصطفیٰ رمدے ہیں یا نہیں۔

پی ایس او بورڈ کے نوٹیفکیشن میں کیا واضح نہیں؟

یہ خط محض تعمیل کی اطلاع ہے، وضاحت نہیں، اور پی ایس او بورڈ کی تشکیلِ نو کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ چار آزاد ڈائریکٹرز کو ایک ساتھ کیوں تبدیل کیا گیا، یا کیا ان کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ نئے آزاد ارکان کا انتخاب کس طریقِ کار سے ہوا اور مفادات کے ٹکراؤ کے اعلانات کا جائزہ لیا گیا یا نہیں۔

ایک جملہ بھی مبہم ہے۔ خط کہتا ہے کہ "موجودہ ایکس آفیشو ارکان" کی پوزیشن وزارت سے تفصیلات ملنے پر بتائی جائے گی۔ اس سے یہ طے نہیں ہوتا کہ موجودہ نامزد افراد نئے نام آنے تک برقرار ہیں یا تینوں نشستیں فی الحال خالی ہیں۔

پس منظر: سرکاری توانائی کمپنیوں کے بورڈز پر حکومتی کنٹرول

پی ایس او اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہے مگر ریاستی اثر و رسوخ کے تحت ہے، اور اس کے بورڈ میں روایتی طور پر سرکاری نامزد افراد اور آزاد ڈائریکٹرز دونوں شامل رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وزارتیں توانائی سے وابستہ سرکاری کمپنیوں کے بورڈز تبدیل کرتی رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق مالی اور پالیسی دباؤ کے دور میں اس سے تسلسل متاثر ہو سکتا ہے۔

تجزیہ: پی ایس او بورڈ میں کن باتوں پر نظر رکھی جائے

گورننس کے مبصرین عموماً ایسی تبدیلی کے بعد آزادی، تسلسل اور افشا پر نظر رکھتے ہیں۔ درج دس نشستوں میں آزاد ارکان نصف ہیں، جو معنی خیز تعداد ہے مگر اکثریت نہیں۔ ایسے آزاد چیئرمین کا، جس کا وزیر خزانہ سے خاندانی تعلق ہو اور جس بورڈ میں فنانس ڈویژن بھی نمائندہ ہو، سوالات کو جنم دینا فطری ہے، چاہے کوئی ضابطہ نہ ٹوٹا ہو۔ تمام آزاد ارکان کی تبدیلی کا مطلب یہ بھی ہے کہ نئے بورڈ کو آڈٹ، رسک اور متعلقہ فریقین کے لین دین کی نگرانی سمجھنے میں وقت لگے گا۔