وفاقی حکومت نے بدھ کے روز بجلی چوری کے حقیقی پیمانے، اس کی وجوہات اور جغرافیائی تقسیم معلوم کرنے کے لیے سابقہ واپڈا تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کا جامع تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو ڈسکوز میں بدانتظامی اور بجلی چوری کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ اور وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کی۔ پاور ڈویژن، نیپرا، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے کمیٹی کو بجلی چوری، تقسیمی نقصانات، وصولیوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بجلی چوری کا وسیع تر منظرنامہ اور حکومتی دعوے

یہ فیصلہ کوئی نئی بات نہیں — وزیراعظم شہباز شریف جون میں ہی ڈسکوز کے بلنگ نظام کے جامع تکنیکی آڈٹ کا حکم دے چکے ہیں، مگر عمل درآمد اب تک سست رہا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکنیکل ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جلد اظہارِ دلچسپی (EoI) جاری کی جائے گی اور آڈٹ کی شرائطِ کار اگلے ہفتے تک حتمی کی جائیں گی — یعنی عملی کارروائی ابھی بھی مہینوں دور نظر آتی ہے۔

حکومت نے پیسکو اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی جیسے زیادہ نقصان والے علاقوں میں سولرائزیشن منصوبوں اور نجکاری کے لیے مختص ڈسکوز میں بھی ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) کی تنصیب جاری رکھنے کا اعلان کیا، تاکہ نئے نجی خریدار صارفین سے اوور بلنگ نہ کریں۔ تاہم ماضی میں بھی ایسے اعلانات کے باوجود گردشی قرضہ کم نہیں ہوا، جو موجودہ اقدامات کی سنجیدگی پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کا کہنا تھا کہ بجلی چوری اور نظام کی نااہلی کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا جائے گا اور اوور بلنگ ناقابلِ قبول ہے — تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ماضی میں بھی دیے جاتے رہے ہیں جبکہ بلوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

آڈٹ کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ایک طبقہ اسے بجلی چوری کے خاتمے کی جانب مثبت قدم قرار دے رہا ہے، جبکہ بڑی تعداد صارفین اسے "ایک اور کمیٹی، ایک اور اعلان" کہہ کر تشکیک کا اظہار کر رہی ہے، خاص طور پر ان صارفین کی جانب سے جو مسلسل اوور بلنگ کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب تک ایف آئی آرز اور گرفتاریوں کی شرح اتنی کم رہے گی، بجلی چوری پر عملی قابو کیسے پایا جا سکے گا۔

ماہرین کا تجزیہ

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض تکنیکی آڈٹ سے بجلی چوری کا مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک مقامی سطح پر گورننس اور احتساب کا نظام مضبوط نہ کیا جائے۔

ماہرین کے نزدیک اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب میں تاخیر اور نجکاری سے قبل شفافیت کا فقدان دیرینہ خدشات ہیں، اور جب تک ریکوری کی شرح میں مستقل بہتری اور مقدمات کے فیصلے تیز رفتار نہیں ہوتے، محض اعلانات سے گردشی قرضے میں کمی ممکن نہیں۔