پاکستانی برآمدی شعبہ نئی ترامیم سے متاثر
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے ایف بی آر کے ایس آر او 1359(I)/2025 کے تحت ترامیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، جس سے صنعت کے مطابق ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو نقصان ہوگا۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے ایف بی آر کے ایس آر او 1359(I)/2025 کے تحت ترامیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، جس سے صنعت کے مطابق ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو نقصان ہوگا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو کاروبار کے آغاز میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں تقریباً 600 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز کی گراوٹ کے بعد منگل کو سرمایہ کاروں کی خریداری کی سرگرمیوں کے باعث مثبت رجحانات دیکھنے کو ملے اور کے ایس ای-100 انڈیکس نے ابتدائی ٹریڈنگ میں 300 سے زائد پوائنٹس حاصل کر لیے۔
وزارتِ اقتصادی امور کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان کو غیر ملکی فنڈنگ میں 4 ارب 55 کروڑ ڈالر کی بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم سالانہ بنیادوں پر یہ رقم 26 کروڑ ڈالر زیادہ رہی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے پیر کے روز مثبت انداز میں ٹریڈنگ کا آغاز کیا، جب بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس کاروبار کے آغاز پر ہی ایک لاکھ 50 ہزار کی سطح عبور کر گیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نجی شعبے اور نوجوانوں کو ترقی میں مرکزی کردار دینے کے لیے اختراعات اور ضابطہ جاتی فریم ورک کی مکمل حمایت کرے گی۔
وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 2 اعشاریہ 30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس نے کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں میں تقریباً 500 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری ہے، منافع کی توقعات، مستحکم روپیہ اور ملکی و غیرملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری سے مارکیٹ میں جوش، ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 1000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اگست کے مہینے میں ریکارڈز بننے کا سلسلہ جاری ہے،
اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا ایک اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو، سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں معیشت کے مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے اہم اقتصادی اور ترقیاتی امور پر غور کیا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ریکارڈ پر ریکارڈ بننے کا سلسلہ جاری ہے، کاروباری ہفتے کے دوسرے روز شیئرز بازار نے نئی تاریخ رقم کردی،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، سرمایہ کاروں نے ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور مضبوط کارپوریٹ آمدنی کے تسلسل پر مثبت ردعمل ظاہر کیا
ملک میں دو لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کے لیے کم بولی کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے مہنگی پیش کش کو قبول کرلیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریٹیل آؤٹ لیٹس اور ای کامرس کیش آن ڈیلیوری (COD) کی ادائیگیوں پر دو لاکھ روپے کی حد مقرر کر دی ہے۔
نجکاری کمیشن نےزرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL) کی اسٹریٹجک نجکاری کے لیے مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے پر دستخط کر دیے - پاکستان کے زرعی مالیاتی شعبے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا
جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز میں ہی کے ایس ای-100 انڈیکس ایک لاکھ 47 ہزار کی بلند سطح عبور کر گیا
پاکستان کی سرکاری ایجنسی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے دو لاکھ میٹرک ٹن سفید ریفائنڈ چینی کی درآمد کے لیے نیا بین الاقوامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی ) نے کراچی اسٹیل ملز کی 32سو ایکڑ زمین پر انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کی منظوری دےدی، پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے دو ارب 82 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلمنٹری گرانٹ بھی منظور کرلی گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ زرعی نظام کو ٹیکس نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں کی از سر نو ترتیب کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جاری تیزی کا سلسلہ بدستور برقرار ہے، جہاں بدھ کو کاروبار کے آغاز پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو بھی تیزی کا سلسلہ برقرار رہا، جب کہ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس نے انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 1000 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) ڈاکٹر کبیر سدھو نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو چینی بحران کی وجوہات پر بریفنگ میں بتایا ہے کہ شوگر ایڈوائزی بورڈ نے گزشتہ سال حکومت کو درست تخمینہ فراہم نہیں کیا تھا، غلط تخمینوں کی بنیاد پر چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔