آئی سی سی کے جاری کردہ ورلڈ کپ 2027 شیڈول کے مطابق پاکستان اپنی مہم 8 اکتوبر کو سینچورین میں افغانستان کے خلاف شروع کرے گا۔ دو دن بعد 10 اکتوبر کو جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں روایتی حریف بھارت سے مقابلہ ہوگا۔

ایونٹ کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کر رہے ہیں، اور 12 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت ایک بار پھر گروپ اے میں ہیں۔

ورلڈ کپ 2027 شیڈول: پاکستان کے پانچ گروپ میچز

آئی سی سی کی فکسچر گرافک کے مطابق پاکستان کے گروپ مرحلے کے میچز یہ ہیں:

تاریخ حریف مقام
جمعہ، 8 اکتوبر افغانستان سپر اسپورٹ پارک، سینچورین
اتوار، 10 اکتوبر بھارت وانڈررز اسٹیڈیم، جوہانسبرگ
جمعہ، 15 اکتوبر کوالیفائر اے منگاؤنگ اوول، بلوم فونٹین
منگل، 19 اکتوبر زمبابوے ہرارے اسپورٹس کلب، ہرارے
جمعہ، 22 اکتوبر آسٹریلیا بولینڈ پارک، پارل

پس منظر: گروپس اور ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ

گروپ اے: پاکستان، بھارت، افغانستان، آسٹریلیا، زمبابوے اور کوالیفائر اے۔

گروپ بی: انگلینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، بنگلادیش، نیوزی لینڈ اور کوالیفائر بی۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق ٹورنامنٹ کا آغاز ونڈہوک میں تین ٹیموں کی سپر سیریز سے ہوگا، جو گروپ مرحلے کی آخری ٹیم کا فیصلہ کرے گی۔ گروپ مرحلہ 7 اکتوبر کو کیپ ٹاؤن میں بھارت اور آسٹریلیا کے میچ سے شروع ہوگا، اور فائنل 21 نومبر کو جوہانسبرگ میں شیڈول بتایا گیا ہے۔ ورلڈ کپ 2027 شیڈول میں دیگر ٹیموں کے ابتدائی میچز کے بارے میں رپورٹس یہ ہیں:

  • 8 اکتوبر: انگلینڈ بمقابلہ بنگلادیش (ونڈہوک)
  • 9 اکتوبر: جنوبی افریقہ بمقابلہ نیوزی لینڈ (کیپ ٹاؤن)، زمبابوے بمقابلہ کوالیفائر اے (بلاوایو)
  • 11 اکتوبر: زمبابوے بمقابلہ افغانستان (بلاوایو)
  • 12 اکتوبر: آسٹریلیا بمقابلہ کوالیفائر اے (پارل)
  • 14 اکتوبر: بھارت بمقابلہ افغانستان (ٹشوانے)

سوشل میڈیا اور عوامی توجہ

ورلڈ کپ 2027 شیڈول سامنے آتے ہی سب سے زیادہ توجہ 10 اکتوبر کے پاک بھارت میچ پر رہنے کا امکان ہے۔ پچھلے آئی سی سی ایونٹس میں اس مقابلے کی ٹکٹیں اور ٹی وی ریٹنگز ریکارڈ سطح پر رہی ہیں۔ تاہم صارفین کو چاہیے کہ آن لائن گردش کرتی فہرستوں کے بجائے آئی سی سی کی سرکاری فکسچر لسٹ پر بھروسہ کریں، کیونکہ مختلف ویب سائٹس پر تاریخوں اور مقامات میں فرق دیکھا گیا ہے۔

تجزیہ: ورلڈ کپ 2027 شیڈول پاکستان کے لیے کتنا آسان؟

  1. مشکل آغاز: افغانستان کے خلاف پہلا میچ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ افغان ٹیم حالیہ برسوں میں بڑے ٹورنامنٹس میں اپ سیٹ کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔ اس کے فوراً بعد بھارت جیسا دباؤ والا میچ ہے۔ دونوں میچز سینچورین اور جوہانسبرگ میں ہیں، جو ایک دوسرے سے قریب ہیں، اس لیے سفر کا بوجھ کم رہے گا۔
  2. کوالیفائر کے خلاف لازمی جیت: 15 اکتوبر کا میچ کوالیفائر اے کے خلاف ہے۔ کاغذ پر یہ آسان لگتا ہے، مگر ورلڈ کپ میں ایسے میچ کھو دینا پوائنٹس ٹیبل پر بھاری پڑ سکتا ہے۔
  3. سفر کا چیلنج: ورلڈ کپ 2027 شیڈول میں پاکستان کو بلوم فونٹین سے ہرارے (زمبابوے) اور پھر 22 اکتوبر کو پارل (جنوبی افریقہ) جانا ہوگا۔ ایک ہفتے میں دو ملکوں اور مختلف کنڈیشنز میں کھیلنا ٹیم مینجمنٹ کے لیے امتحان ہے۔
  4. آسٹریلیا کے خلاف فیصلہ کن میچ: گروپ مرحلے کا آخری میچ آسٹریلیا کے خلاف ہے۔ اگر پوائنٹس کا کھیل برابر رہا تو یہی میچ پاکستان کی اگلے مرحلے تک رسائی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
  5. آگے کا مرحلہ: رپورٹس کے مطابق گروپ مرحلے کے بعد مزید مقابلے بھی ہوں گے، جن میں پاکستان کے دیگر ٹیموں سے میچ شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کی تفصیل آئی سی سی کی حتمی فہرست سے ہی معلوم ہوگی۔