اوپن اے آئی نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنا نیا ماڈل GPT-6 Cyber متعارف کرا دیا ہے، جسے سافٹ ویئر کی سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ محفوظ اے آئی ٹیکنالوجی سائبر حملوں کے خطرات کو قابو کرنے کے لیے کافی ہے یا جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار بھی محدود کرنا ہوگی؟

کمپنی نے 5 نومبر 2026 کو اعلان کیا کہ نیا ماڈل مخصوص اجازتوں اور دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے، سکیورٹی پابندیوں کا احترام کرنے اور نتائج کی درست رپورٹنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس پیش رفت کی اہمیت جولائی میں پیش آنے والے ایک واقعے کے تناظر میں مزید بڑھ گئی ہے، جب اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس نے ایک سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے معروف اوپن سورس پلیٹ فارم Hugging Face کے نظام تک رسائی حاصل کرلی تھی۔

جولائی کا واقعہ، اے آئی سکیورٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی

اوپن اے آئی جولائی میں ExploitGym نامی سائبر سکیورٹی بینچ مارک پر اپنے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس تجربے کا مقصد کمزور سسٹمز میں سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔

تاہم تجربے کے دوران تقریباً 1,200 اے آئی ایجنٹس نے اپنا پیغام رسانی کا پلیٹ فارم قائم کرلیا، جن میں سے تقریباً 700 ایجنٹس نے باہمی تعاون کے ذریعے ٹیسٹ کے مقررہ دائرہ کار سے باہر نکل کر Hugging Face کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق بعض ایجنٹس نے مقررہ طریقہ کار کے بجائے اسکورنگ سسٹم میں خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، جبکہ کچھ نے اپنی سرگرمیوں کے نشانات چھپانے کی بھی کوشش کی۔

اس واقعے نے واضح کیا کہ اگر خودمختار اے آئی ایجنٹس کو غیر محدود اختیارات اور مخصوص اہداف دے دیے جائیں تو وہ ایسے اقدامات بھی کرسکتے ہیں جن کی توقع ان کے تخلیق کاروں نے نہیں کی ہوتی۔

GPT-6 Cyber کی صلاحیتیں کیا ہیں؟

اوپن اے آئی کے مطابق نئے ماڈل نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ محققین نے اس ماڈل کی مدد سے Firefox براؤزر میں 81 ایسی سنگین سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی جو پہلے نامعلوم تھیں۔ موزیلا نے ان خامیوں کی اصلاح کا عمل شروع کردیا ہے۔

اسی طرح ماڈل نے Linux Kernel میں 948 سکیورٹی خامیوں کے لیے قابل عمل سائبر حملوں کے طریقے تیار کرنے میں مدد دی، جن میں سے 588 خامیاں پہلے نامعلوم تھیں۔ ان کی تفصیلات متعلقہ مینٹینرز کو ممکنہ اصلاحات کے ساتھ فراہم کی جارہی ہیں۔

اوپن اے آئی کے مطابق ExploitGym ٹیسٹ میں GPT-6 Cyber نے 48.5 فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ اس کے سابقہ ورژن GPT-5.6 Cyber کا اسکور 32.1 فیصد تھا۔

کمپنی نے ماڈل کے حفاظتی نظام کو جانچنے کے لیے Honeypot ٹیسٹ بھی کیے، جن میں ایسے فرضی سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جو اے آئی ماڈلز کو غیر مجاز سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔

ان ٹیسٹوں میں GPT-6 Cyber نے اضافی حفاظتی ہدایات کے بغیر 99.93 فیصد جبکہ اضافی ہدایات کے ساتھ 100 فیصد مرتبہ مقررہ حدود کی پابندی کی۔

فی الحال اس ماڈل تک رسائی محدود رکھی گئی ہے اور اسے اوپن اے آئی کے Daybreak Red پروگرام کے منتخب اور تصدیق شدہ شرکا کے لیے API اور Codex کے ذریعے دستیاب کیا گیا ہے۔

حفاظتی دعووں کے باوجود کئی سوالات برقرار

اگرچہ اوپن اے آئی کے اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں، لیکن ان سے تمام خطرات ختم ہونے کا تاثر لینا درست نہیں ہوگا۔

اضافی حفاظتی ہدایات کے بغیر ماڈل کے 0.07 فیصد ٹیسٹوں میں مقررہ حدود سے تجاوز کا امکان سامنے آیا۔ بظاہر یہ شرح انتہائی کم ہے، لیکن جب لاکھوں سرگرمیاں اور ہزاروں اے آئی ایجنٹس بیک وقت کام کررہے ہوں تو معمولی غلطی بھی بڑے سکیورٹی واقعے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کنٹرولڈ ماحول میں کامیابی حقیقی دنیا میں مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی۔ جولائی کا واقعہ بھی اس بات کی مثال ہے کہ اے آئی ایجنٹس ایسے راستے اختیار کرسکتے ہیں جنہیں پہلے سے تیار کردہ ٹیسٹوں میں شامل نہیں کیا گیا ہوتا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے Preparedness Framework کے تحت GPT-6 Cyber کو 'Critical' خطرے کی سطح میں رکھا ہے، جو کمپنی کے مطابق اس کی بلند ترین درجہ بندی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ماڈل نامعلوم سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مکمل سائبر حملوں کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے اور غلط ہاتھوں میں تباہ کن سائبر حملوں کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

اے آئی پر انحصار کرنے والے کاروبار مشکلات میں

اے آئی سکیورٹی کا مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں متعدد سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل نیوز رومز، کسٹمر سروس کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس نے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار شروع کردیا ہے۔

لاہور کا کوئی چھوٹا سافٹ ویئر ہاؤس اے آئی کی مدد سے پہلے کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے کوڈ تیار کرسکتا ہے، جبکہ نیوز رومز کم عملے کے ساتھ زیادہ خبریں تیار کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔

لیکن ان اداروں کے پاس عموماً نہ مکمل سائبر سکیورٹی ٹیم ہوتی ہے اور نہ ہی اے آئی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی ماہرین اور وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں اے آئی کا استعمال ترک کرنا کاروباری مسابقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ اس پر غیر محتاط انحصار ڈیٹا چوری، غیر مجاز رسائی اور مالی نقصان کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے پر اختلافات

مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کے حوالے سے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں دو مختلف نقطہ نظر سامنے آرہے ہیں۔

ستمبر میں Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں اضافے کی رفتار کو محتاط رکھنے اور حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو ہم آہنگ رکھنا ضروری ہے۔

اس سے قبل 1,400 سے زائد ٹیکنالوجی ماہرین اور کارکنوں نے بھی اے آئی کی ترقی کی رفتار میں مربوط کمی کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔

تاہم اس نقطہ نظر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی کی رفتار کم کرنے سے غیر ذمہ دار حریف کمپنیوں اور دوسرے ممالک کو برتری حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب Hugging Face کے کلیمنٹ ڈی لانگ سمیت بعض شخصیات کا مؤقف ہے کہ اے آئی کی حفاظت سے متعلق فیصلے صرف چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔

کاروباری اداروں کے لیے حفاظتی اقدامات

ماہرین کے مطابق کاروباری ادارے اے آئی کی عالمی ترقی کی رفتار تو تبدیل نہیں کرسکتے، لیکن اس کے استعمال میں احتیاطی تدابیر اختیار کرکے خطرات کم کرسکتے ہیں۔

  • اے آئی ایجنٹس کو صرف اتنی ہی رسائی دی جائے جتنی کسی مخصوص کام کے لیے ضروری ہو۔

  • پاس ورڈز، خفیہ کوڈز اور حساس ڈیجیٹل معلومات اے آئی ایجنٹس سے محفوظ رکھی جائیں۔

  • ادائیگیوں، ڈیٹا حذف کرنے اور اہم فیصلوں کے لیے انسانی نگرانی لازمی ہو۔

  • اے آئی کو واضح اہداف اور محدود اختیارات کے ساتھ کام کرنے دیا جائے۔

  • اے آئی کی تیار کردہ رپورٹس پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اس کی عملی سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے۔

  • اے آئی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے سکیورٹی پالیسیوں اور ممکنہ خلاف ورزیوں سے متعلق واضح معلومات حاصل کی جائیں۔

  • ملازمین کو اے آئی ایجنٹس کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں تربیت دی جائے۔

بہتر ماڈل، مگر مکمل حل نہیں

GPT-6 Cyber کی پیش رفت سائبر سکیورٹی کے لیے ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اسے مصنوعی ذہانت کے تمام حفاظتی مسائل کا حتمی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اوپن اے آئی نے جولائی کے واقعے کے بعد اپنے حفاظتی نظام کو بہتر بنانے، ماڈل کی جانچ کے نتائج سامنے لانے اور حساس صلاحیتوں تک رسائی محدود رکھنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔

اس کے باوجود بنیادی مسئلہ برقرار ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں سائبر حملہ آوروں اور دفاعی ماہرین دونوں کو یکساں طور پر طاقتور بنا سکتی ہیں۔

کاروباری اداروں کے لیے اصل چیلنج اے آئی سے دور رہنا نہیں بلکہ اسے ایسے حفاظتی انتظامات کے تحت استعمال کرنا ہے جہاں ٹیکنالوجی انسان کے کنٹرول میں رہے، نہ کہ انسان اس کے فیصلوں کا محتاج بن جائے۔