امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بحال کرنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے بالواسطہ سفارتی رابطوں میں براہِ راست کردار ادا کیا ہے، جبکہ پاکستان اور قطر بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم ثالث بن گئے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے باخبر دو ذرائع نے بتایا ہے کہ وینس تقریباً روزانہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر ثالثوں سے رابطے میں ہیں۔

ان رابطوں کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات تلاش کرنا ہے۔

وینس کی سفارتی کوششیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی

رپورٹ کے مطابق نائب صدر وینس کی مذاکرات میں بڑھتی ہوئی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ وہ امریکی حکومت کو جاری تنازع سے نکالنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وینس جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں فوجی کارروائی کے حوالے سے سب سے زیادہ تحفظات رکھنے والی شخصیات میں شامل تھے اور سفارتی حل کے حامی تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے یا نہیں۔

جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ ایرانی حکام سے بات چیت کر رہا ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق اگر ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو امریکی فوج نسبتاً مختصر وقت میں حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف اور قطر کا اہم سفارتی کردار

مذاکرات سے براہِ راست واقف ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر وینس نے وائٹ ہاؤس کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے مشیر و داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطری وزیراعظم کے ساتھ رابطوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح پر براہِ راست اجلاس منعقد کرنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق مجوزہ اجلاس تاحال منعقد نہیں ہو سکا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینس نے تقریباً دو ہفتے قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو ایک خط بھی ارسال کیا تھا، جس میں براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

ایرانی حکام کے مطابق اس خط سے مذاکرات کی بحالی کے لیے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ محسن رضائی کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

قطر نے مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کر دی

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے جمعے کی شام کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قطری حکام نے امریکی انتظامیہ کے ایسے عہدیداروں کے ساتھ کام کیا ہے جو صورتحال کو قابو میں رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق تہران میں بھی ذمہ دار آوازوں کے تعاون سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری رہے، اگرچہ انتخابی مصروفیات کے باعث ان کی رفتار کچھ کم ہوئی۔

قطری وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔

جمعے کی صبح صدر ٹرمپ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی بات چیت کی۔ قطری امیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات دور کرنے، سفارتی رابطے جاری رکھنے، خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے اور بحری آمدورفت و توانائی کی فراہمی کے تحفظ پر زور دیا۔

آبنائے ہرمز میں امریکی حملہ، مذاکرات کے لیے نیا چیلنج

سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں فوجی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق جمعے کو امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر ایک فضائی دفاعی میزائل لانچر کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ اس لانچر سے ایک امریکی لڑاکا طیارے کی جانب میزائل داغا گیا تھا۔

یہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی اور جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان اور قطر کی ثالثی، امریکی نائب صدر کی براہِ راست سفارتی شمولیت اور تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مثبت اشارے کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کر رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں جاری فوجی سرگرمیاں کسی ممکنہ معاہدے کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔