دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر 6.3 ارب ڈالر کے تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے نے عالمی ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کے پیچھے شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر جدید خودکار نظام، سوشل انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی کم وقت میں اربوں ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کیے۔
بائنانس کے مطابق اس کے بلاک چین شراکت دار اب تک چوری شدہ 6.3 ارب ڈالر میں سے کم از کم 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بلاک چین پر منجمد کر چکے ہیں۔ تاہم باقی رقم کی بازیابی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس حملے نے ایک ایسے وقت میں عالمی کرپٹو صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ڈیجیٹل اثاثوں کو روایتی مالیاتی نظام میں زیادہ گنجائش دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ماہرین کے مطابق کرپٹو مارکیٹ کا عالمی مالیاتی نظام سے بڑھتا ہوا تعلق سائبر حملوں کے ممکنہ اثرات کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
شمالی کوریا کے ہیکنگ نیٹ ورک پر شبہ
امریکی اور بین الاقوامی بلاک چین تحقیقاتی اداروں نے بائنانس حملے کو شمالی کوریا کے ہیکنگ نیٹ ورک ٹریڈر ٹریٹر (TraderTraitor) سے منسلک کیا ہے، جسے شمالی کوریا کے سرکاری حمایت یافتہ لازارس گروپ (Lazarus Group) کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ کے مطابق ابتدائی طور پر حملہ آوروں نے کمپنی کے ایک سافٹ ویئر انجینئر کے لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کی، جبکہ دیگر سیکیورٹی خلاف ورزیوں کے ذریعے بھی کمپنی کے نظام میں نقب لگائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ہیکرز نے حملے کے دوران ایسا خودکار نظام بھی استعمال کیا جس نے اپنے سافٹ ویئر ٹولز اور حملے کے نشانات خود تباہ کر دیے، جس سے تحقیقات مزید مشکل ہوگئیں۔
رچرڈ ٹینگ نے اسے ایک پیچیدہ سائبر حملہ قرار دیا۔
تحقیقات کے مطابق ہیکرز نے حملے سے صرف 36 گھنٹے پہلے اس کی تیاری شروع کی تھی، جبکہ چوری شدہ اربوں ڈالر کی منتقلی کا بڑا حصہ محض 20 منٹ میں مکمل کر لیا گیا۔
شمالی کوریا کی سائبر چوریوں کی طویل تاریخ
شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے عالمی مالیاتی اداروں، بینکوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سائبر حملوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
2016 میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے اکاؤنٹس سے تقریباً ایک ارب ڈالر چرانے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں سے ہیکرز 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
2017 میں شمالی کوریا کو وانا کرائی (WannaCry) رینسم ویئر حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس نے 150 سے زائد ممالک میں لاکھوں کمپیوٹرز کو متاثر کیا اور عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا۔
حالیہ برسوں میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز نے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو خصوصی طور پر نشانہ بنانا شروع کیا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل اثاثوں کو سرحدوں کے پار منتقل کرنا اور مختلف ذرائع سے ان کی شناخت چھپانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
ٹریڈر ٹریٹر گروپ پر گزشتہ سال بائی بٹ (Bybit) کرپٹو ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر چرانے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ اس وقت اسے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو چوری قرار دیا گیا تھا، تاہم بائنانس پر حالیہ حملے نے اس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت نے ہیکرز کی کارروائیوں کو تیز کر دیا
ماہرین کے مطابق بائنانس حملے کی سب سے تشویشناک بات صرف چوری کی رقم نہیں بلکہ اس کارروائی کی رفتار، خودکار نظاموں کا استعمال اور شواہد مٹانے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔
بلاک چین تجزیاتی ادارے چین اینالیسس (Chainalysis) کے تحقیقاتی سربراہ ایرک جارڈین کے مطابق ہیکرز نے اتنی تیزی اور بڑے پیمانے پر مالیاتی لین دین کیا کہ اس میں ہر مرحلے پر کسی انسان کی منظوری یا مداخلت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے خیال میں یہ کارروائیاں کمپیوٹر کے ذریعے خودکار انداز میں انجام دی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز ہر سال چوری ہونے والی کرپٹو کرنسی کی بڑی مالیت اپنے قبضے میں لے رہے ہیں، جس سے دیگر سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے لیے مقابلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی پن ڈراپ سیکیورٹی کے چیف ایگزیکٹو وجے بالاسبرامنیم کے مطابق سوشل انجینئرنگ اور خودکار ٹیکنالوجی شمالی کوریا کے حالیہ سائبر حملوں کی نمایاں خصوصیات بن چکی ہیں۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو اور آڈیو ٹیکنالوجی نے شمالی کوریا کے لیے جعلی شناختوں کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنے کے منصوبوں کو بھی زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔
ایسے منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کو دھوکا دے کر شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے افراد کو آئی ٹی ملازمتوں پر بھرتی کروایا جاتا ہے، جس کے ذریعے حساس نظاموں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وجے بالاسبرامنیم کے مطابق گزشتہ سال ان کے ادارے کے مشاہدے میں ہر 343 ملازمت کی درخواستوں میں سے ایک درخواست شمالی کوریا سے منسلک مشتبہ امیدوار کی تھی، جبکہ رواں سال یہ تناسب بڑھ کر ہر 47 درخواستوں میں سے ایک ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اب ان سرگرمیوں کی بنیاد بن رہی ہے، جبکہ کم لاگت پر دستیاب متعدد AI ٹولز نے ان کارروائیوں کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ٹیتھر اور سرکل نے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے
بائنانس حملے کے بعد کرپٹو صنعت میں چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
اس سے قبل ٹیتھر نے تقریباً 1.57 ارب ڈالر جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر مالیت کے مشتبہ اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بائنانس کے مطابق اس کے بلاک چین شراکت داروں کی جانب سے منجمد کیے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت کم از کم 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
تاہم بٹ کوائن اور ایتھر جیسی کرپٹو کرنسیوں کو کسی ایک مرکزی ادارے کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جاتا، اس لیے ان کے لین دین کو روایتی بینکنگ نظام کی طرح براہ راست روکنا ممکن نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق ہیکرز نے چوری شدہ رقم کی منتقلی، منی لانڈرنگ اور ڈیجیٹل شواہد ختم کرنے کے لیے غیر معمولی رفتار سے کام کیا، جس سے باقی رقم کی بازیابی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
باقی 3 ارب ڈالر کی بازیابی اب بھی ممکن؟
چین اینالیسس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلاک چین تحقیقاتی ٹیمیں باقی ماندہ رقم کی بازیابی کی کوشش کر سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ہیکرز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے مخصوص کرپٹو ایکسچینجز اور مالیاتی نیٹ ورکس تک بروقت رسائی حاصل کی جائے۔
ایرک جارڈین کے مطابق اگر متعلقہ ایکسچینجز فوری کارروائی کریں تو چوری شدہ اثاثوں کا مزید حصہ منجمد یا بازیاب کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ ابتدائی مراحل میں ہے۔
کرپٹو صنعت میں مشترکہ سائبر سیکیورٹی نظام کا مطالبہ
بائنانس حملے کے بعد عالمی کرپٹو ایکسچینجز نے اپنے دفاعی نظام مضبوط بنانے اور معلومات کے فوری تبادلے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا ہے۔
او کے ایکس (OKX) کے چیف ایگزیکٹو اسٹار شو نے تجویز دی ہے کہ ایک ایسا ریئل ٹائم الرٹ سسٹم قائم کیا جائے جس کے ذریعے کسی بھی سائبر حملے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا سکے، مشترکہ کارروائی کی جائے اور مشتبہ چوری شدہ اثاثوں کو عارضی طور پر منجمد کرنے کا طریقہ کار موجود ہو۔
کوائن بیس نے بھی اپنے آف لائن کرپٹو کیز محفوظ رکھنے والے نظام میں تبدیلیوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ کراکن نے اپنے سیکیورٹی نظام کا جائزہ لینے اور صنعت میں ہونے والے حملوں سے سبق حاصل کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بائنانس پر حملہ محض ایک کمپنی کی سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ پوری کرپٹو صنعت کے لیے انتباہ ہے۔ مصنوعی ذہانت، خودکار مالیاتی لین دین اور سوشل انجینئرنگ کے امتزاج نے سائبر جرائم کو زیادہ تیز، منظم اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اگر عالمی کرپٹو ایکسچینجز نے مشترکہ سیکیورٹی نظام، ملازمین کی مؤثر تربیت اور فوری معلومات کے تبادلے کا انتظام نہ کیا تو ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں سرمایہ کاروں کا اعتماد شدید متاثر ہو سکتا ہے۔