ایندھن کی فراہمی مستحکم، ذخائر کا جائزہ
حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
ہیش ٹیگ
حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی، ایل این جی کی مہنگی درآمد اور سپلائی کے خدشات کے باعث حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں، ورنہ ملک میں ایندھن کی قلت اور راشنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان میں 15 مارچ تک پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا، پاکستان میں 15 مارچ سے نئی قیمتوں میں اضافے کا امکان
حکومت نے اوگرا کی سفارش پر یکم مارچ سے پیٹرول 8 اور ڈیزل 5.16 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا، اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا۔
یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
وفاقی حکومت نے مقدس مہینہ رمضان المبارک کے آغاز سے صرف ایک ہفتہ قبل عوام پر ایک اور بھاری بوجھ ڈالتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر ہو گیا ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم فروری 2026 سے نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے لیوی میں اضافہ کر کے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ملنے والے ممکنہ ریلیف سے محروم کر دیا۔ پیٹرول پر فی لیٹر 4 روپے 65 پیسے کا ریلیف چھین لیا گیا جبکہ ڈیزل پر بھی لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا امکان ہے۔
سال نو 2026 کے آغاز پر عوام کو مخلوط خبر ملی ہے۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے جبکہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔
حکومتِ 16 دسمبر 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اوسطاً 8 سے 11 روپے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے۔
پاکستان حکومت نے یکم دسمبر 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے لیے ایک ابتدائی ورکنگ تیار کر لی ہے، جو اگلے پندرہ روزہ ریویو میں زیر غور لائی جائے گی۔
حکومت نے آج سے فی لیٹر Oil & Gas Regulatory Authority (اوگرا) کی سفارش پر ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 6 روپے بڑھا کر 284 روپے 44 پیسے کر دی جبکہ پیٹرول کی قیمت 265 روپے 45 پیسے پر برقرار رکھی ہے۔
حکومت 16 نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جہاں ڈیزل کی بڑی اور پیٹرول کی معمولی تبدیلی متوقع ہے۔
وزارتِ خزانہ نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا
عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان میں نومبر کے پہلے پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔
حکومتِ پاکستان نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان کیا ہے
پیٹرولیم سیکٹر کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16 اکتوبر سے کمی کا امکان ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ کا شکار صارفین کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔