حکومت نے پیٹرول، ڈیزل سستا کر دیا
وفاقی حکومت نے آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق 4 جولائی 2026 سے ہوگا۔
ہیش ٹیگ
وفاقی حکومت نے آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق 4 جولائی 2026 سے ہوگا۔
وزیراعظم Shehbaz Sharif نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی،
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان میں 15 مارچ تک پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
او جی ڈی سی نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں کمزور قیمتوں اور بڑھتی لاگت کے باعث بعد از ٹیکس منافع میں 11.4% کمی رپورٹ کی، جبکہ ایکسپلوریشن اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا۔
قومی اسمبلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3,283 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو چوری اور لیکج سے سالانہ 60 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ کی تازہ ترین دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ شہریوں پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم فروری 2026 سے نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) نے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری کے لیے باضابطہ طور پر درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی میں یہ اعلیٰ سطح کی تقرری ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب توانائی کا شعبہ مالی دباؤ، ریگولیٹری چیلنجز اور بدلتے ہوئے عالمی توانائی رجحانات سے گزر رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے لیوی میں اضافہ کر کے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ملنے والے ممکنہ ریلیف سے محروم کر دیا۔ پیٹرول پر فی لیٹر 4 روپے 65 پیسے کا ریلیف چھین لیا گیا جبکہ ڈیزل پر بھی لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا امکان ہے۔
پاکستان نے ایران کو ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبہ عدالت سے باہر ایک معاہدے کے تحت ختم کرنے کا ارادہ پہنچا دیا ہے، جبکہ امریکی پابندیوں سے استثنیٰ (waiver) حاصل ہونے کی صورت میں منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
پاکستان حکومت نے یکم دسمبر 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے لیے ایک ابتدائی ورکنگ تیار کر لی ہے، جو اگلے پندرہ روزہ ریویو میں زیر غور لائی جائے گی۔
پاکستان مہنگی عالمی منڈیوں اور کمزور ہوتی کرنسی کے دباؤ کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار کم کر رہا ہے۔ حکومت نے 2026 کے کئی کارگو مؤخر کر دیے ہیں اور سرمایہ کاری کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کوئلہ، پن بجلی اور جوہری توانائی کی طرف تیزی سے رخ موڑا ہے۔
پاکستان نے 18 سال بعد اپنی پہلی بولی کے عمل میں 23 آف شور تیل و گیس کے بلاکس سرمایہ کاروں کو دے دیے، جس سے توانائی کے شعبے میں غیر ملکی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
قطر سے درآمدی ایل این جی کے سرپلس ہونے کے معاملے پر پاکستان نے آئندہ سال 2026 کے لیے گیس کی طلب کا نیا پلان قطری حکام کو فراہم کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا