ملک بھر میں سرد اور خشک موسم کا سلسلہ جاری
محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں شدید سردی متوقع ہے۔
ہیش ٹیگ
محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں شدید سردی متوقع ہے۔
جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں رات گئے گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کے بعد موسم شدید سرد ہو گیا ہے۔
ملک کے شمالی علاقوں بشمول خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا اور طویل خشک سالی کے بعد کچھ حد تک ریلیف ملا۔
ہفتہ کی شب سے ملک کے شمالی حصوں میں ہلکی بوندا باندی کا آغاز ہوا، جس میں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خطہ پوٹھوہار شامل ہیں، جبکہ اتوار کے روز ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔
ملک کے بیشتر علاقوں میں سرد اور خشک موسم برقرار ہے جبکہ پنجاب، بالائی سندھ اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں شدید دھند اور سموگ نے آمدورفت کو متاثر کر رکھا ہے۔
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کر دی ہے۔
پاکستان کے مغربی اور جنوب مغربی بلوچستان میں بارشوں کی کمی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے باعث خشک سالی کے خدشات شدید ہو گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں آج ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات شدید سردی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں موسم مزید سرد ہو جائے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گرد و نواح میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا۔
مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ 6 سے 10 دسمبر کے دوران بلوچستان میں داخل ہوگا، جس کے بعد صوبے میں بارشوں کا پہلا بھرپور اور طویل مرحلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات وادی کاغان، ناران اور بابو سر ٹاپ میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم شدید سرد ہوگیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بابو سر ٹاپ پر اب تک 6 انچ تک برف پڑ چکی ہے، جبکہ مسلسل برفباری کے باعث ناران جھل کھڈ روڈ اور بابو سر ٹاپ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آج سے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں موسم آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خشک رہے گا، تاہم بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چند علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑی مقامات پر سرد ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں جاری بارشوں نے ایک طرف موسم کو خوشگوار بنا دیا ہے تو دوسری جانب شہریوں کی زندگی کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے
راولپنڈی میں جمعرات کو سوا ماہ کی طویل خشک سالی کے بعد موسم سرما کی پہلی تیز موسلا دھار بارش کا آغاز ہو گیا جس سے پورا شہر جل تھل ہو گیا اور فضا خوشگوار ہو گئی
محکمہ موسمیات پاکستان نے ایک ہفتے کے لیے ملک گیر موسمی وارننگ جاری کرتے ہوئے شہری اور دیہی علاقوں میں ممکنہ موسمی اثرات سے آگاہ کیا ہے۔
پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی سے سیلابی ریلوں نے 47 لاکھ افراد کو متاثر کیا، 112 اموات ہوئیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہیں۔
پنجاب میں ایک بار پھر مون سون بارشوں کی نئی لہر کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے تحت صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 16 سے 19 ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میںشدید بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
کراچی میں گزشتہ دو روز کی مسلسل بارشوں نے شہر کو شدید متاثر کیا، ملیر اور لیاری کی ندیاں دریاؤں کی شکل اختیار کرگئیں
پاکستان کے دریاؤں میں حالیہ بارشوں اور پانی کے غیر معمولی بہاؤ کے باعث سیلابی صورتحال شدید تر ہوگئی ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں جمعہ کو بھی انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہی، جس کے باعث کئی اضلاع میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔
بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا سیلابی ریلا ہیڈ پنجند پہنچ گیا ہے اور اگلے دو روز میں گڈو بیراج تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ملک بھر میں جاری شدید بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے یکم ستمبر سے 3 ستمبر تک نئے سیلابی خطرات کی پیشگوئی کر دی ہے۔
پنجاب اور بلوچستان میں دریاؤں کی بلند سطح سے شدید سیلابی صورتحال، 15 لاکھ افراد متاثر، 28 ہلاکتیں، لاکھوں کی نقل مکانی جبکہ آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے گئے۔