18 آئی پی پیز سے دو ہفتوں میں معاہدے کا امکان
’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ پر 18آئی پی پیز سے دو ہفتوں میں معاہدے کا امکان، اس سے سالانہ70سے100ارب روپے کی بچت میں مدد ملے گی۔
ہیش ٹیگ
’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ پر 18آئی پی پیز سے دو ہفتوں میں معاہدے کا امکان، اس سے سالانہ70سے100ارب روپے کی بچت میں مدد ملے گی۔
وفاقی حکومت انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں کی دوبارہ مذاکرات یا منسوخی سے سالانہ 300 ارب روپے تک کی بچت کی توقع رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں 2 سے 3 روپے فی یونٹ کی کمی ہوگی۔
دس انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا ہے۔ وہ حکومت کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کرنے کے لیے شرائط پیش کر رہے ہیں۔
انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) جن سے دوسرے مرحلے میں پوچھ گچھ کی جانی ہے تاکہ انہیں ٹیک یا پے ٹو ٹیک اور پے موڈ میں منتقل کیا جائے، اب مبینہ طور پر گزشتہ دو ہفتوں سے سی پی پی اے-جی کی جانب سے ان کی ادائیگی روکنے پر احتجاج کر رہے ہیں۔
حکومت آئی پی پیز کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ’ٹیک یا پے‘ سے ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ میں تبدیل کرنے کے لئے دستیاب آپشنز پیش کیا جاسکے۔
پاکستان نے 140 کے قریب آئی پی پیز کو غیراستعمال شدہ بجلی کی مد میں 19 سو ارب کے لگ بھگ رقم ادا کی ہے۔ رواں مالی سال میں کیپیسٹی پیمینٹ بڑھ کر 28 سو ارب ہوگئی ہیں۔
وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ 4,267 میگاواٹ پیدا کرنے والے 18 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کو ادائیگیاں روک دے ، کیونکہ حکومت ان کے ساتھ معاہدے کی تبدیلی پر بات چیت جاری ہے۔
وفاقی کابینہ نے 5 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دے دی
وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، پہلے مرحلے میں بند کی جانے والے 5 آئی پی پیز کے نام سامنے آ گئے ہیں۔
ایف بی آر کو ضرورت اس امرکی ہے کہ وہ بجلی کے بلوں کے ذریعے آمدن بڑھانا کم کرے۔ حکومت فی الوقت 800 ارب روپے سالانہ بجلی کے بلوں کے ذریعے چھاپ رہی ہے۔
حکومت نے شوگر ملز مالکان کو فائدہ پہنچانے کیلیے نیپرا کے متنازع فیصلے پر عملدرآمد کردیا۔
حکومت مبینہ طور پر انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کا اعلان کرنے والی ہے، جس میں ادائیگیوں میں نمایاں کمی شامل ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکام نے راولپنڈی میں ایک خفیہ مقام پر مالکان سے پوچھ گچھ کی ہے۔
حکومت نے نجی آئی پی پیز اور سرکاری پاور ہاؤسز کے درمیان فرق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات پاور سیکٹر اصلاحات کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی ہے جو آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جولائی میں بجلی کی قیمت میں 51 فیصد اضافے کے باجود رواں مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضہ 2.8 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے آئی پی پیز کی اوور انوائسنگ کی تفصیلات طلب کر لیں۔
آئی پی پیز کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دہی کے حقائق منظر عام پر آگئے جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض بجلی گھروں نے غلط معاہدوں کے باعث بغیر بجلی پیدا کیے حکومت سے اربوں روپے وصول کیے۔
آئی پی پیز کے ساتھ باہمی رضامندی سے نظر ثانی شدہ معاہدوں کے بارے میں اچھی خبر چند ہفتوں میں عوام کے ساتھ شیئر کی جائے گی کیونکہ ٹاسک فورس تقریباً اپنے حتمی نتائج تک پہنچ چکی ہے۔
یشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے تین خودمختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو گزشتہ سال جنوری میں ملک بھر میں بریک ڈاؤن کے بعد نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی بحال نہ کرنے میں ناکامی پر شوکاز نوٹس جاری کرکے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کردی۔
انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کمپنیوں نے کیسپیٹی چارجز سمیت نرخوں میں کمی کرنے سے انکار کرتے ہوئے زبردستی کرنے پر عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی دے دی۔
حکومت کے تفتیش کاروں نے مبینہ طور پر درجنوں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، کیونکہ کچھ مالکان خاموش مزاحمت کررہے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ وہ صرف معاہدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔
201سے زائد یونٹ کے صارفین کے لیے بھی فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق 201سے زائد یونٹ صارفین کو 6 ماہ تک اسی سلیب میں رکھنے کی پالیسی میں تبدیلی کافیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات لا رہے ہیں۔
چین نے امپورٹڈ کوئلے سے چلنے والے تین پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر تبدیل کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا۔
حکومت اور نیپرا کی جانب سے ناکارہ آئی پی پیز پر نوازشات، سات ناکارہ آئی پی پیز کی سادہ درخواستوں پر جنریشن لائسنس میں توسیع دیدی گئی۔