آئی پی پیز کو 3 ماہ میں 472 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس، عوام کے بلوں سے وصولی
اپریل تا جون آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 105 کمپنیوں کو 472 ارب روپے کی ادائیگی، مکمل تفصیلات اردو لیڈ پر۔
ہیش ٹیگ
اپریل تا جون آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 105 کمپنیوں کو 472 ارب روپے کی ادائیگی، مکمل تفصیلات اردو لیڈ پر۔
سینیٹ کمیٹی میں نیپرا نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران آئی پی پیز کو 7,275 ارب روپے کی کیپیسٹی ادائیگیاں کی گئیں
ملک کے توانائی شعبے میں گردشی قرضہ ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے۔ پاور ڈویژن کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ کر 1.693 کھرب روپے ہوگیا۔
وزارت خزانہ نے پاکستان کے توانائی بحران سے جڑے سب سے بڑے مالی مسئلے — 1225 ارب روپے کے گردشی قرض — کے کامیاب حل کا اعلان کیا ہے
آج اسلام آباد میں ایک اہم تقریب منعقد ہوگی جس میں حکومت اور 18 بینکوں کے مابین گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے قرض معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے
وفاقی حکومت کی جانب سے جون 2025 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے خاتمے کی منظوری کے باوجود جولائی میں اس قرضے میں 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ زرعی نظام کو ٹیکس نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں کی از سر نو ترتیب کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے،
معاہدوں پر نظر ثانی کیلئے حکومت کی 29 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ بات چیت مکمل ہوگئی ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید آئی پی پیز کے ساتھ بھی معاہدے ہونے کا امکان ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا ہے کہ گردشی قرض کے خاتمے کے لیے بینکوں سے فکس ریٹ پر قرض لینے پر کام کر رہے ہیں۔
موجودہ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں میں ایک ہزار 100 ارب روپے سے زائد کی بچت کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت نے بجلی کی قیمت میں کمی کے لیے 10 ہزار میگاواٹ کے آئی پی پیز کو مہنگا اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
وفاقی وزیر برائے بجلی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور مزید کم ہوں گی، مزید 15 آئی پی پیز کے ساتھ نظر ثانی معاہدے وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں لیکر جا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجلی کا ٹیرف کم ہوگا اور آئی پی پیز معاملات بھی جلد حل ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی نے آئی پی پیز کو فرانزک آڈٹ سے بچایا، اس کے حرام خوروں کے کہنے پر آئی پی پیز کو چھوٹ دی گئی۔
حکومت نجی آئی پی پیز ، سرکاری بجلی گھروں اور شمسی و پون بجلی کے منصوبوں کے ساتھ مارچ 2025 تک مذاکرات مکمل کرکےبجلی کے ٹیرف کو 12 روپے تک کم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
حکومت نے مزید ایک انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) کے ساتھ بجلی خریداری کا معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
گزشتہ 2 سال میں انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں کی گئی ادائیگی کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردی گئیں۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ زراعت پر بھی اب 45 فیصد کا ٹیکس لگ گیاہے، اب ہم بھی ٹیکس میں حصہ ڈالیں گے،
حکومت نے 1.8 ہزار ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کرنے کیلیے بجلی کے ٹیرف میں4 روپے فی یونٹ کمی کی تجویز کو مسترد کردیا۔
آئی پی پیز میں مفادات رکھنے والے ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) نے مبینہ طور پر چیئرمین نیپرا سے ٹیرف کے تعین میں اس حد تک ترمیم کے لیے رابطہ کیا ہے