ہیٹ ویو کے دوران ہیضہ کے کیسز میں اضافہ
پاکستان میں شدید گرمی کی لہر کے باعث ہیضہ کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں درجہ حرارت کئی علاقوں میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے
ہیش ٹیگ
پاکستان میں شدید گرمی کی لہر کے باعث ہیضہ کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں درجہ حرارت کئی علاقوں میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے
گرمیوں کے موسم میں تربوز کی مانگ میں اضافے کے ساتھ ہی شہریوں کو اکثر کچے یا بے ذائقہ پھل خریدنے کی شکایت رہتی ہے،
پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے
پاکستان بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث تربوز کے جوس اور دیگر مقامی پھلوں کے امتزاج سے تیار مشروبات کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے
صحت بخش غذا، جس میں زیادہ پھل، سبزیاں اور ہول گرینز شامل ہوتے ہیں، کو ہمیشہ بہتر صحت کی ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس حوالے سے ایک غیر متوقع پہلو سامنے لا کر ماہرین کو چونکا دیا ہے۔
پاکستان میں شدید گرمی کے دوران تربوز اور اسٹرابیری کا جوس تیزی سے مقبول ہوتا جا رہا ہے، جہاں ماہرین اسے جسمانی ہائیڈریشن اور فوری توانائی کے لیے مؤثر قدرتی مشروب قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں تربوز کی فصل اس موسمِ گرما میں نمایاں اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ اس کی طلب میں تیزی آئی ہے اور کسانوں نے کاشت کا رقبہ بڑھایا ہے۔
نئی سائنسی تحقیق کے مطابق رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں ذیابیطس، دل کے امراض اور ہارمونل مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
حالیہ طبی تحقیق نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں LDL کولیسٹرول ("برا کولیسٹرول") کو شدید طور پر کم کرنا انتہائی مؤثر ہے۔
دنیا بھر سمیت پاکستان میں وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں Semaglutide اور Tirzepatide جیسی جدید ادویات نے موٹاپے کے علاج میں نمایاں توجہ حاصل کرلی ہے۔
امریکا میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک نئی طبی آزمائش کے بعد مریض انسولین کے استعمال سے مکمل طور پر آزاد ہوگئے۔
سال میں دو انجیکشنز پر مبنی نئی دوا Zilebesiran ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور روزانہ گولیوں کی ضرورت کم کر سکتی ہے۔
رمضان کے دسترخوان کے لیے مزیدار کھٹے میٹھے چنے آسانی سے گھر پر تیار کیے جا سکتے ہیں، جو ذائقے میں منفرد اور غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔
قدرتی سیب اور کھجور کا جوس افطار اور سحری میں فوری توانائی، بہتر ہاضمہ اور متوازن غذائیت فراہم کرتا ہے، ماہرین غذائیت کے مطابق قدرتی شکر اور فائبر روزے کے دوران جسم کو مستحکم رکھتے ہیں۔
رمضان المبارک میں ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ سحری میں ایسی غذائیں شامل کی جائیں جو جسم کو دیر تک توانائی فراہم کریں اور روزے کے دوران کمزوری سے بچائیں۔
رمضان المبارک میں پولن الرجی کے مریضوں کے لیے احتیاط ناگزیر ہو جاتی ہے۔ بہار کے موسم میں فضاء میں جرگ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے نزلہ، کھانسی اور آنکھوں میں خارش کے مسائل شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ روزے کی حالت میں پانی کی کمی بھی علامات کو بڑھا سکتی ہے۔
رمضان المبارک میں روزے کے دوران وٹامن ڈی کی کمی ایک ابھرتا ہوا صحت مسئلہ بن رہی ہے، جس سے تھکن، ہڈیوں کی کمزوری اور مدافعتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
جرمنی کی یونیورسٹی آف بون کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف دو دن تک اوٹس پر مشتمل کم کیلوریز غذا کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر میٹابولک سنڈروم کے شکار افراد میں۔
ماہِ رمضان میں افطار دسترخوان پر جہاں روایتی پکوانوں کی بہار ہوتی ہے، وہیں میٹھی اور ٹھنڈی ڈشز کی اپنی الگ کشش ہوتی ہے۔
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی دسترخوان کی رونق "پکوڑوں" کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اکثر خواتین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کے بنائے گئے پکوڑے باہر سے تو سنہری اور خستہ (Crispy) ہو جاتے ہیں، مگر کاٹنے پر اندر سے بیسن کچا نکلتا ہے۔
ماہِ رمضان میں افطار کی رونقیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، مگر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہی وقت سب سے زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
پاکستان میں موسمِ بہار اور ابتدائی گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بازاروں میں سرخ، رسیلی اسٹرابیریاں توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ یہ دلکش پھل نہ صرف اپنی خوشنما شکل اور میٹھے کھٹے ذائقے کے باعث پسند کیا جاتا ہے بلکہ اس سے تیار کیا جانے والا جوس بھی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
پاکستان میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بازاروں میں سرخ، رسیلی اور خوشبودار اسٹرابیری کی بہار آجاتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ بعض علاقوں میں اسٹرابیری، بلیو بیری، راسبیری، بلیک بیری اور دیگر بیریز کو عام بول چال میں "بیر" کہہ دیتے ہیں، یہ چھوٹے، رنگین اور لذیذ پھل غذائیت سے بھرپور "سپر فوڈز" ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور فائبر کا خزانہ رکھتے ہیں۔