سبزیاں کینسر کوروکنے میں مددگار
ماہرین کے مطابق مختلف سبزیوں میں موجود قدرتی مرکبات، اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر اور دیگر غذائی اجزاء کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے یا سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ہیش ٹیگ
ماہرین کے مطابق مختلف سبزیوں میں موجود قدرتی مرکبات، اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر اور دیگر غذائی اجزاء کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے یا سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی یونیورسٹی ٹفٹس کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی تحقیق کے ذریعے قدرتی شکر ٹاگاٹوز (Tagatose) کی پیداوار کا ایک نیا، انتہائی مؤثر اور سستا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ یہ شکر عام چینی (سکرروز) جیسا ذائقہ رکھتی ہے مگر اس میں کیلوریز تقریباً 60 فیصد کم ہیں اور خون میں گلوکوز یا انسولین کی سطح کو تیزی سے نہیں بڑھاتی۔
تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق پلاسٹک کی بوتلوں، فوڈ پیکنگ اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء سے نکلنے والے مائیکرو پلاسٹک (خاص طور پر PET یعنی پولی تھیلین ٹیرفیتھالیٹ) براہ راست لبلبے (pancreas) کے خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں شفافیت، احتساب اور مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیم پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔
آج کی تیز رفتار زندگی میں لوگ اکثر صبح سویرے اٹھنے اور آسمان کی طرف دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں، لیکن ماہرین صحت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق صبح کے ابتدائی اوقات میں کھلے آسمان کو دیکھنا نہ صرف جسمانی صحت بہتر کرتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور روحانی برکت بھی بخشتا ہے۔
پالک (Spinach)، جسے اردو میں پالک اور انگریزی میں Spinach کہا جاتا ہے، پاکستان کے گھروں میں ایک انتہائی مقبول اور غذائیت سے بھرپور سبزی ہے۔ یہ نہ صرف سستا اور آسانی سے دستیاب ہے بلکہ وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ بھی ہے جو انسانی جسم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز میں نوجوانوں کی صحت کو ویپنگ اور الیکٹرانک سگریٹ کے بڑھتے استعمال سے بچانے کے لیے اہم اقدامات زیر غور آئے ہیں۔
سرد موسم کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی نزلہ، زکام، کھانسی اور فلو جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں سرخ سرخ، تازہ گاجریں نظر آنے لگتی ہیں۔ پاکستان میں سردیوں کا موسم گاجر کے حلوے کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے
جنوری کی شدید سردی میں پنجاب، سندھ اور ملک بھر کے بازاروں میں تازہ سرخ گاجریں کی آمد نے شہریوں کے چہرے روشن کر دیے۔
پنجاب حکومت نے سرکاری نرسنگ کالجز میں بی ایس نرسنگ (جنرک) پروگرام کے لیے نئی داخلہ پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت اب طالبات کو مفت تعلیم کی سہولت ختم کر دی گئی ہے اور وہ ہزاروں روپے فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کریں گی۔
سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی پاکستانی گھروں میں سوجی کے حلوے کی خوشبو پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔
دیسی مکھن، جو گھر میں ملائی سے تیار کیا جاتا ہے، نہ صرف ذائقہ دار ہوتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی متعدد فوائد کا حامل ہے۔
سردیوں کا موسم آتے ہی شمالی پاکستان کے علاقوں جیسے دیر، سوات، گلگت اور کشمیر میں املوک کا ڈرائی فروٹ بازاروں میں نظر آنے لگتا ہے۔
پاکستان بھر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی امرود کی میٹھی اور رسیلی فصل بازاروں میں پہنچ گئی ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر دور واقع خانپور ڈیم نہ صرف پکنک پوائنٹ اور سیاحتی مقام کے طور پر مشہور ہے بلکہ یہاں کی زرخیز زمینیں پاکستان کی سب سے لذیذ اور معیاری مالٹے (نارنگی) کی پیداوار کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
نیدرلینڈز کی ماسٹرخ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق، ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے صرف کھڑکی کے پاس بیٹھ کر قدرتی دھوپ کا سامنا کرنا بھی خون میں شوگر کی سطح کو بہتر بنانے میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
جیسے ہی پاکستان میں سردی کی لہر ڈیرے ڈالتی ہے، ملک بھر کے بازاروں اور فوڈ اسٹریٹس میں مچھلی کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ لاہور کی مشہور 'بشیر دار الماہی' ہو یا کراچی کے ساحلی علاقوں کے تازہ پکوان، مچھلی سردیوں کا سب سے مقبول انتخاب بن کر ابھرتی ہے۔
جیسے جیسے دنیا بھر میں سردیوں کی ٹھنڈک بڑھ رہی ہے، غذائی ماہرین ایک بار پھر مونگ پھلی (جسے گراؤنڈ نٹ بھی کہا جاتا ہے) کو موسم سرما کے لیے بہترین ناشتے کے طور پر سراہ رہے ہیں۔
سردیوں کا موسم آتے ہی بازاروں اور ریڑھیوں پر سنگھاڑے کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ یہ پانی میں اگنے والا پھل نہ صرف مزیدار ہوتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔
سہانجنا، جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے، کا سالن پاکستانی گھریلو دسترخوان کا ایک روایتی مگر غذائیت سے بھرپور کھانا ہے، جو خاص طور پر سردیوں کے موسم میں صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین صحت نے بڑھتی ہوئی اسموگ کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ فضائی آلودگی سانس، آنکھوں اور دل کے امراض کا سبب بن سکتی ہے۔