مالیاتی مشیروں کی تقرری کا عمل شروع
نجکاری کمیشن بورڈ نے اسٹریٹجک لین دین کے لیے کلیدی اقدامات کی منظوری دے دی۔
ہیش ٹیگ
نجکاری کمیشن بورڈ نے اسٹریٹجک لین دین کے لیے کلیدی اقدامات کی منظوری دے دی۔
حکومت نے بجلی کے نرخوں میں 1 روپے 23 پیسے فی یونٹ تک کمی کردی۔
حکومت نے عوام کو بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے ریلیف دینے کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکومتی دعووں کے باوجو دسرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں اضافہ ہوگیا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے رواں سال کی توانائی شعبے کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق بجلی کمپنیاں نقصانات کم اور وصولیاں بڑھانے میں ناکام رہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت کی روشنی میں ٹیکسوں میں کمی کرکے بجلی کے نرخ مقرر کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
حکومت نجی آئی پی پیز ، سرکاری بجلی گھروں اور شمسی و پون بجلی کے منصوبوں کے ساتھ مارچ 2025 تک مذاکرات مکمل کرکےبجلی کے ٹیرف کو 12 روپے تک کم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
ایف آئی اے کے اہلکار مبینہ طور پر ڈسکوز کے اہلکاروں کے ساتھ کرپٹ طریقوں سے پیسہ کمانے کے لیے ملی بھگت کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ان کمپنیوں کے سی ای اوز سے نجکاری کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لیں۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی صارفین پر 47 ارب روپے کا مزید اضافی بوجھ ڈالنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخوست دائر کردی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو پیش کی گئی رپورٹ میں کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیاں زائد بلوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے، نیپرا نے تمام کمپنیوں سے زائد بلنگ پر وضاحت طلب کر لی۔
بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے 63 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
وزارت انرجی میں ایمرجنسی پلان پر کام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی وزیربرائےسرمایہ کاری بورڈ،مواصلات اورنجکاری عبدالعلیم خان کی زیرصدارت نجکاری کمیشن بورڈ کےاجلاس میں ڈسکوز کی نجکاری کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں مالیاتی مشیر لگانے کا بھی فیصلہ ہوگیا۔
حکومت اور نیپرا کی جانب سے ناکارہ آئی پی پیز پر نوازشات، سات ناکارہ آئی پی پیز کی سادہ درخواستوں پر جنریشن لائسنس میں توسیع دیدی گئی۔
حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام کو بجلی کا نیا جھٹکا دینے کی تیاری کرلی ہے۔ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے 3 ماہ (جنوری تا مارچ) کے دوران خود مختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو 450 ارب روپے کی بھاری ادائیگیاں کی گئیں۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے جس میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔
گزشتہ 2 برسوں کے دوران بجلی کےبنیادی ٹیرف میں فی یونٹ 22 روپے 53 پیسے تک کا تاریخی اضافہ کیا گیا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی مہنگی کر دی گئی۔
بجلی صارفین کی بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد حکومت ’پرو ریٹا سسٹم‘ کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جو ماہانہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکال دیتا ہے یا انہیں اگلے سلیب میں دھکیل دیتا ہے۔
وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں کے بورڈ ارکان کو ہٹانے کے لیے سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق ترمیمی صدارتی آرڈیننس 2024 جاری کردیا گیا
کیا نیٹ میٹرنگ واقعی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز ) کو نقصان پہنچا رہی ہے ؟ یہ محض ایک افسانہ ہے۔
ملک میں بجلی کی طلب میں واضح کمی کے باوجود شارٹ فال ختم نہ ہو سکا۔