بجلی بلوں سے 1.866 ٹریلین روپے ٹیکس وصولی
ایف بی آر نے گزشتہ چار مالی سالوں میں بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 1.866 ٹریلین روپے وصول کیے۔
ہیش ٹیگ
ایف بی آر نے گزشتہ چار مالی سالوں میں بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 1.866 ٹریلین روپے وصول کیے۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 31 مئی 2026 تک بڑھ کر 1.924 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جس سے حکومت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیا گیا ہدف حاصل کرنا ممکن نہ رہا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں توانائی، دفاع، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، سکیورٹی اور ترقیاتی شعبوں کے لیے متعدد ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (TSGs) اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔
گرمی کی شدت میں اچانک اضافے کے باعث بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق مالی سال 2024-25 میں ترسیل و تقسیم نقصانات اور کم وصولیوں کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ایک کھرب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جس سے گردشی قرضہ اور سروس کا معیار مزید متاثر ہوا۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کو اپریل سے جون 2026 کے دوران بجلی کے بلوں میں تقریباً 42 پیسہ فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے سوشل میڈیا پر ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صنعتوں کے بجلی بلوں میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کی کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی (جولائی-دسمبر 2025) میں 75 ارب روپے بڑھ کر 1.689 ٹریلین روپے ہو گئی—یہ 4.65 فیصد اضافہ ہے جبکہ حکومت نے FY25 میں 780 ارب روپے کی کیپیٹل انجیکشن اور 1.225 ٹریلین روپے کی کم شرح پر کمرشل قرضہ کاری کی تھی۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بجلی صارفین پر عائد ڈیبٹ سرچارج (قرض کی ادائیگی کا اضافی چارج) 3.23 روپے فی یونٹ جاری رہے گا، جو پانچ سے چھ سال تک برقرار رہے گا۔
کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے ملک میں طویل المدتی اور مؤثر انرجی پلاننگ کے لیے مربوط نظام کی منظوری دے دی، جس کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر توانائی کی ضروریات، کھپت اور پیداوار کی مشترکہ منصوبہ بندی کی جائے گی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حکومت کی ہدایات پر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت سولر پروسیمرز (نیٹ میٹرنگ صارفین) کی سولر سسٹم کی صلاحیت، معاہدے کی مدت اور گرڈ کو دی جانے والی اضافی بجلی کی ادائیگی کو تقریباً نصف کر دیا جائے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں بجلی کے نرخوں میںسہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی، جس کے بعد تین ماہ کے لیے 45 پیسے فی یونٹ اضافہ متوقع ہے۔
ملک کے توانائی شعبے میں گردشی قرضہ ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے۔ پاور ڈویژن کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ کر 1.693 کھرب روپے ہوگیا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست پر کل باقاعدہ سماعت کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جون 2025 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے خاتمے کی منظوری کے باوجود جولائی میں اس قرضے میں 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے
پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں خاندان اب بھی اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیونکہ بجلی کی بحالی کے باوجود 2 لاکھ 83 ہزار 496 صارفین کو تاحال بجلی فراہم نہیں کی جا سکی۔
سرکاری بجلی تقسیم کارکمپنیوں کے نقصانات میں صرف 11 ارب روپے کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم وفاقی حکومت بجلی وصولیوں کے نقصانات 183 ارب روپے کم کرنے میں کامیاب رہی۔
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی ٹیموں نے مختلف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ، ڈسکوز کو ٹرانسفارمر کی مرمت کا سامان اور میٹریل سپلائی کی بولیوں میں مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کرنے والے چار سپلائرز کے دفاتر پر ، بیک وقت لاہور اور گوجرانوالہ میں چھاپے مارے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا ہے کہ سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے، کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اقدام سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی۔