آئینی ترامیم کی منظوری 25اکتوبر کے بعد بھی کی جاسکتی ہے : عرفان صدیقی
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کے پیکج کی منظوری کے لیے کوئی ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا، تجویز ہے کہ یہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
ہیش ٹیگ
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کے پیکج کی منظوری کے لیے کوئی ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا، تجویز ہے کہ یہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
آئینی ترمیم کے معاملے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے لندن جانے کا پروگرام مؤخر کر دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وجودہ عدالتی نظام جمہوری نہیں ہے، ہمیں ناصرف آئینی عدالت بنانی ہے بلکہ صوبائی سطح پر اصلاحات بھی کرنی ہیں،بلکہ ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی لانا ضروری ہے،
پیپلزپارٹی نے آئینی ترامیم کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کیساتھ رابطہ کیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا ان سے پوچھیں جو لانے والے ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نےکہا ہے کہ بھارتی پائلٹ ابھینندن کو جنرل باجوہ نے رہا کروایا اس میں امریکی دباؤ بھی شامل تھا،
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کی حمایت کے معاملے میں مولانا فضل الرحمان کا کیا کردار ہوگا کچھ نہیں کہہ سکتا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت کی مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ اب راز نہیں رہا، ہر لیڈر کے پاس ہے، پی ٹی آئی بھی اس پر راضی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ جن ترامیم پر اتفاق ہے وہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں منظور کرائی جاسکتی ہیں۔
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ یہ ڈرے ہوئے ہیں۔ آئینی ترمیم کا مقصد صرف مجھے جیل میں رکھنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے 19 ستمبر سے وکلا تحریک کے آغاز کا اعلان
، حکومت نے عدالتی اصلاحات کیلئے آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی کو آخری شکل دیدی اور بل کی منظوری کیلئے صف بندی کرلی۔
آئینی ترمیم کی منظوری اور عدم منظوری کے درمیان جے یو آئی سربراہ فیصلہ کن کردار بن گئے۔ بلاول بھٹو اور محسن نقوی نے رات گئے فضل الرحمان سے طویل ملاقات کی۔
آئینی ترمیم کا معاملہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا امکان ہے۔
عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت دو تہائی اکثریت کو قائم کر کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے تاکہ دوبارہ قاضی فائز عیسٰی کو چیف جسٹس بنا سکے۔