وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ ہوگا۔
ہیش ٹیگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج صبح ساڑھے نو بجے ہوگا۔
حکومت آئینی ترمیم سینیٹ اجلاس میں منظوری کیلیے آج بھی پیش نہ کرسکی۔
آئینی ترامیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا، کمیٹی نے آئینی ترمیم کا مسودہ منظورکرلیا۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمبر گیم کے لیے ابھی تک آئینی ترمیم کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا۔ حکومت قومی اسمبلی میں نمبر گیم پورا ہونے کا دعوی کررہی ہے جبکہ ایوان بالا میں بھی حکومتی اتحاد کو نمبرپورے کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔
آئینی ترامیم پر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی میں اتفاق ہونے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، تو دوسری جانب خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے،
مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 18 یا 19 اکتوبر کو بلائے جانے کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ کی آئینی ترامیم کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا۔ اجلاس کے دوران پی پی پی اور پی ٹی آئی کے ارکان میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آئینی ترمیم پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کر دیا۔
مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت چیف جسٹس سمیت 7ارکان پر مشتمل ہوگی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کریگی،
آئینی ترامیم کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا پیر کو ہونے والا اجلاس فیصلہ کن ہوگا،ترامیم کے حوالے سے سرگرمیاں اور جوڑتوڑ چار دن کے لئے زیر زمین چلے جائیں گے ،
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس ای او) اجلاس کے بعد اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کی جائے گی۔
مجوزہ 26 ویں آئینی ترامیم کے معاملے پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ لچک کے بغیر آئینی ترمیم کے حکومتی مسودے پر اتفاق ممکن نہیں،
پی پی پی کا مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ سامنے آگیا، پیپلز پارٹی کی جانب سے آرٹیکل ایک سو پچھتر اے میں آئینی عدالت کا قیام ڈرافٹ میں شامل ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے عدالتی اصلاحات سے متعلق تئیس نکات پر مشتمل مسودہ تیار کرلیا، تجویز دی ہے کہ آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ کا بینچ بنایا جائے۔
جمعت علمائے اسلام ( جے یو آئی ) اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے مجوزہ آئینی ترمیم کیلئے مشترکہ ڈرافٹ تیار کرنے پر اتفاق کرلیا۔
مجوزہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مجوزہ آئینی عدالت کے لیے آئینی ترمیم لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کےلیےکہا گیا کہ اتوار کو ہی کرنا ہے ورنہ پیر کو آسمان گرجائےگا۔