پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ قومی ٹیم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایشین چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارت کا دورہ نہیں کرے گی۔
فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کسی "محفوظ" ملک میں منتقل کیا جائے۔
پس منظر
پاکستان سمیت چھ ممالک کی ٹیموں کو 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارتی شہروں موہالی اور جالندھر میں ہونے والی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنی تھی۔
بھارت اور پاکستان کی ہاکی ٹیموں کے درمیان دو طرفہ کھیلوں کے تعلقات 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے معطل ہیں، جن کا الزام نئی دہلی نے سرحد پار سے سرگرم عسکریت پسندوں پر عائد کیا تھا۔
ایٹمی طاقت رکھنے والے حریف ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد پایا جاتا ہے، اور گزشتہ برس کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ مسلح تصادم بھی ہو چکا ہے۔
پاکستان گزشتہ برس بھارت میں منعقدہ ایشیا کپ ہاکی ایونٹ سے بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث دستبردار ہو چکا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے کہا کہ یہ فیصلہ ایشین ہاکی فیڈریشن کو باضابطہ طور پر پہنچا دیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حساس صورتحال کے پیش نظر کھلاڑیوں کو بھارت بھیجنا مناسب نہیں سمجھا گیا، اس لیے ایونٹ کسی محفوظ ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا ردعمل
پاکستانی شائقین اور کھیلوں کے تجزیہ کاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کچھ صارفین نے فیڈریشن کے فیصلے کو سیکیورٹی کے تناظر میں درست قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے پاکستانی ہاکی کے بین الاقوامی ایونٹس سے مسلسل دور رہنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماہرانہ تجزیہ
کھیلوں کے تجزیہ کار اس فیصلے کو پاک بھارت کھیلوں کے تعلقات میں جاری تعطل کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سفارتی کشیدگی کا براہ راست اثر کھیلوں پر پڑ رہا ہے، اور جب تک دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و سفارتی تعلقات بہتر نہیں ہوتے، دو طرفہ کھیلوں کی بحالی کا امکان معدوم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایشین ہاکی فیڈریشن کے لیے اب یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول اور مقام کیسے طے کیا جائے۔