پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم نے بابر اعظم کے دوبارہ قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سنبھالنے کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا ہے۔
مانچسٹر میں سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے ہمراہ ایک چیریٹی فنڈ ریزنگ تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہتے اور ممکن ہے وہ خود غلط بھی ہوں، تاہم ان کی رائے میں بابر اعظم کو کپتانی دوبارہ قبول نہیں کرنی چاہیے تھی۔
پس منظر اور تنازع کی وجہ
وسیم اکرم نے تیسرے ٹیسٹ کے ٹاس کے موقع پر پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیا، جہاں بابر اعظم سے ٹیم میں سات کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر لاعلمی ظاہر کی۔ اس پر طنزیہ انداز اپناتے ہوئے سابق کپتان نے سوال اٹھایا کہ اگر کپتان کو ہی ٹیم کی تبدیلیوں کا علم نہ ہو تو وہ ٹاس پر کس مقصد کے لیے موجود تھے۔
اکرم کا کہنا تھا کہ بطور کھلاڑی یا فرد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ٹیم کا لیڈر یا کپتان اپنے کھلاڑیوں کا ساتھ نہ دے تو کوئی بھی کھلاڑی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے تجویز دی کہ دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بابر اعظم کو کپتانی چھوڑ کر باقی سیریز محض ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلنی چاہیے تھی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
وسیم اکرم کے اس بیان کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔
کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد نے سابق کپتان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم کو کپتانی کے دباؤ کے بجائے صرف بیٹنگ پر توجہ دینی چاہیے تھی،
کچھ صارفین نے اس تبصرے کو غیر ضروری تنقید قرار دیا اور موقف اپنایا کہ موجودہ حالات میں بابر اعظم کو مزید وقت دیا جانا چاہیے۔ "چھولے بیچنے" والا جملہ بھی صارفین میں خاصا زیرِ بحث رہا اور طنزیہ میمز کی صورت میں گردش کرتا رہا۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم کا بیان پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے متعلق جاری بحث کو مزید ہوا دے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیم کی حالیہ کارکردگی پہلے ہی زیرِ سوال ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کپتانی اور بیٹنگ دونوں ذمہ داریوں کا بوجھ کسی بھی کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے اس نوعیت کے تبصرے مستقبل میں پی سی بی کی قیادتی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔