آبنائے ہرمز میں جاری بحران اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو تیز کر دیا ہے۔ مختلف ممالک اب درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی جاری ہونے والی نئی رپورٹ ’’رینیوایبلز 2026‘‘ کے مطابق 2026 سے 2031 کے دوران دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں تقریباً 4,800 گیگاواٹ کا اضافہ متوقع ہے، جو گزشتہ چھ سال کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ ہوگا۔

رپورٹ کی ایک اہم پیش گوئی کے مطابق آف گرڈ سولر فوٹو وولٹک (پی وی) نظاموں کی عالمی استعداد 2031 تک ڈھائی گنا بڑھ کر تقریباً 80 گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس توسیع میں پاکستان، سب صحارا افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا نمایاں کردار ادا کریں گے۔

آف گرڈ سولر نظام ایسے شمسی بجلی کے منصوبے ہیں جو روایتی قومی بجلی کے گرڈ سے منسلک نہیں ہوتے۔ ان کی اہمیت خاص طور پر ان علاقوں میں بڑھ رہی ہے جہاں بجلی کی ترسیل کا بنیادی ڈھانچہ محدود ہے یا روایتی ذرائع سے بجلی حاصل کرنا مہنگا پڑتا ہے۔

ترقی پذیر معیشتیں قابلِ تجدید توانائی میں آگے بڑھنے لگیں

آئی ای اے کے مطابق پہلی مرتبہ چین کے علاوہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں قابلِ تجدید توانائی کی نئی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہونے کی توقع ہے۔

یہ گزشتہ رجحان سے نمایاں تبدیلی ہوگی۔ 2020 سے 2025 کے دوران چین کے علاوہ ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں قابلِ تجدید توانائی کی استعداد میں اضافہ ترقی یافتہ ممالک کی رفتار سے تقریباً نصف تھا۔

تاہم توانائی کے تحفظ سے متعلق خدشات، حکومتی پالیسیوں میں معاونت اور شمسی و ہوائی توانائی کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے اس منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ آئی ای اے نے چین کے علاوہ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی توسیع کا اپنا تخمینہ گزشتہ سال کی رپورٹ کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد بڑھا دیا ہے۔

ہوا سے بجلی کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ متوقع

رپورٹ کے مطابق 2031 تک دنیا میں آن شور ونڈ پاور یعنی خشکی پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 70 فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد تقریباً 2,040 گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

چین عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی توسیع میں بدستور سب سے بڑا حصہ دار رہے گا، تاہم عالمی اضافی استعداد میں اس کا حصہ 2025 کے 60 فیصد سے زیادہ کی سطح سے کم ہو کر 2031 تک تقریباً 53 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب بھارت، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی ترقی کی رفتار تیز ہونے کا امکان ہے۔ ان خطوں میں حکومتی سرپرستی، پالیسی اقدامات اور شمسی و ہوائی توانائی کی مارکیٹ میں وسعت اہم کردار ادا کریں گے۔

ماحولیاتی تحفظ کے بجائے توانائی کا تحفظ ترجیح بن گیا

آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول کے مطابق ماضی میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے پیچھے بنیادی محرک ماحولیاتی تحفظ تھا، تاہم اب بیشتر ممالک کے لیے توانائی کا تحفظ سب سے اہم ترجیح بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمسی اور ہوائی توانائی کی لاگت میں مسلسل کمی نے انہیں کئی منڈیوں میں روایتی توانائی کے مقابلے میں مسابقتی بنا دیا ہے، جبکہ حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔

آبنائے ہرمز کا بحران ان ممالک کے لیے خاص طور پر ایک اہم انتباہ ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال ایک اہم موقع فراہم کر سکتی ہے۔ آف گرڈ سولر نظاموں کی توسیع سے دور دراز علاقوں میں بجلی تک رسائی بہتر بنانے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ان اہداف کا حصول مستقل حکومتی پالیسیوں، سستے مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری سے مشروط ہوگا۔