رواں مالی سال پاور پلانٹس کو 2 ہزار 91 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹس کا تخمینہ
وفاقی حکومت نے مختلف پاور پلانٹس کو ادائیگی کے لیے رواں مالی سال 2091 ارب روپےکی کیپسٹی پیمنٹس کا تخمینہ لگایا ہے۔
وفاقی حکومت نے مختلف پاور پلانٹس کو ادائیگی کے لیے رواں مالی سال 2091 ارب روپےکی کیپسٹی پیمنٹس کا تخمینہ لگایا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) نے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے اضافے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست دائر کردی۔
حکومت بی آئی ایس پی کے ذریعے ملک بھر میں لاکھوں لائف لائن بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ملک میں مہنگی بجلی کی سب سے بڑی وجہ کیپسٹی چارجز ہیں جبکہ 22 سرکاری کمپنیاں کیپیسٹی چارجز کی 48 فیصد کی حصے دار ہیں۔
حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام کو بجلی کا نیا جھٹکا دینے کی تیاری کرلی ہے۔ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے 3 ماہ (جنوری تا مارچ) کے دوران خود مختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو 450 ارب روپے کی بھاری ادائیگیاں کی گئیں۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ35 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے جس میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔
پاکستان بھر میں سالانہ 40 ارب روپے کی گیس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔
حکومت نے آئندہ 15 روز کےلیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16 جولائی سے بڑے اضافے کا امکان ہے۔
گزشتہ 2 برسوں کے دوران بجلی کےبنیادی ٹیرف میں فی یونٹ 22 روپے 53 پیسے تک کا تاریخی اضافہ کیا گیا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی مہنگی کر دی گئی۔
حکومت نے ایک اور بجلی بم گرا دیا اور وفاقی کابینہ نے کمرشل، زرعی اور بلک صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف بڑھانے کی منظوری دے دی۔
روس کی جانب سے پاکستان او ر بھارت کو پائپ لائن کے ذریعے ایل این جی فراہم کرنے کی روسی پیشکش کے دوران اسلام آباداپنی توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کےلیے اربوں ڈالر کی ڈیل کے مختلف آپشنز پرغور کر رہا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا خدشہ ہے جب کہ نیپرا 7 روپے 12 پیسے فی یونٹ تک اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔
بجلی صارفین کی بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد حکومت ’پرو ریٹا سسٹم‘ کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جو ماہانہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکال دیتا ہے یا انہیں اگلے سلیب میں دھکیل دیتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ 200 یونٹ مفت بجلی دینا ممکن نہیں،
پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں” پرو ریٹا بلنگ سسٹم”کے نفاذ سے لاکھوں صارفین کو اوور بلنگ سے متعلق دستاویزات سامنے آ گئیں.
پاور سیکٹر میں درآمدی فیول سے چلنے والے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز ) سے طویل المدتی معاہدے قومی خزانے اور عوام پر بھاری بوجھ بن چکے۔
کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے اجلاس میں بتایا گیا کہ مئی 2024 تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 655 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
وفاقی کابینہ نے مختلف کیٹیگریز کے لیے بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف 48 روپے 84 پیسے تک مقررکردیا،
آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پر عمل درآمد کر لیا گیا ، وفاقی کابینہ نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی منظوری دیدی۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو ) نے سولر سسٹم میں استعمال ہونے والے گرین میٹرز پر پابندی عائد کر دی۔