پٹرول 1.35، ڈیزل 3.35 روپے فی لٹر مزید مہنگا، مٹی کا تیل سستا
پٹرول ایک روپے 35پیسے،ڈیزل تین روپے 85پیسے فی لٹر مہنگا ، مٹی کا تیل سستا ،
پٹرول ایک روپے 35پیسے،ڈیزل تین روپے 85پیسے فی لٹر مہنگا ، مٹی کا تیل سستا ،
ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سب سے زیادہ لیوی کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے، رواں مالی سال جولائی سے ستمبر کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 261ارب 69 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
حبکو ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ انفرااسٹرکچر تیار کرنے کے لیے حبکو گرین (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نام سے ایک وینچر قائم کرنے کے عمل میں ہے۔
آئی ایم ایف کو تیل کی موخر ادائیگیوں کے حوالے سے تصدیق دینے کے بعد اب سعود ی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد دسمبر میں پاکستان آنے کی توقع ہے
دس انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا ہے۔ وہ حکومت کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کرنے کے لیے شرائط پیش کر رہے ہیں۔
پانچ خود مختار پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد، انرجی ٹاسک فورس نے آٹھ بیگاس سے چلنے والے آئی پی پیز کے ساتھ بھی ترمیم شدہ معاہدے کیے ہیں
انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) جن سے دوسرے مرحلے میں پوچھ گچھ کی جانی ہے تاکہ انہیں ٹیک یا پے ٹو ٹیک اور پے موڈ میں منتقل کیا جائے، اب مبینہ طور پر گزشتہ دو ہفتوں سے سی پی پی اے-جی کی جانب سے ان کی ادائیگی روکنے پر احتجاج کر رہے ہیں۔
حکومت آئی پی پیز کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ’ٹیک یا پے‘ سے ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ میں تبدیل کرنے کے لئے دستیاب آپشنز پیش کیا جاسکے۔
پاکستان نے 140 کے قریب آئی پی پیز کو غیراستعمال شدہ بجلی کی مد میں 19 سو ارب کے لگ بھگ رقم ادا کی ہے۔ رواں مالی سال میں کیپیسٹی پیمینٹ بڑھ کر 28 سو ارب ہوگئی ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ 4,267 میگاواٹ پیدا کرنے والے 18 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کو ادائیگیاں روک دے ، کیونکہ حکومت ان کے ساتھ معاہدے کی تبدیلی پر بات چیت جاری ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ہم اگلے 8 سے 10 ماہ میں بجلی کی قیمت کو 10 روپے فی یونٹ تک لانے کے لیے کام کررہے ہیں،
وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، پہلے مرحلے میں بند کی جانے والے 5 آئی پی پیز کے نام سامنے آ گئے ہیں۔
ایف بی آر کو ضرورت اس امرکی ہے کہ وہ بجلی کے بلوں کے ذریعے آمدن بڑھانا کم کرے۔ حکومت فی الوقت 800 ارب روپے سالانہ بجلی کے بلوں کے ذریعے چھاپ رہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے کے الیکٹرک کی نجکاری کے عمل کی تفصیلات طلب کر لیں جبکہ دوران اجلاس حکام پاور ڈویژن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی کپیسٹی اتنی نہیں تھی جتنا ان کو دے دیا گیا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر کمی کا اعلان کرتے پیٹرول 2 روپے اور ڈیزل 3روپے 40 پیسے سستا کرنے کا اعلان کردیا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کیلئے ایل پی جی مہنگی کردی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے پاور سیکٹر کی جانب سے آر ایل این جی سپلائی اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی مد میں کم ادائیگی کے خلاف پیٹرولیم ڈویژن کو ایس او ایس بھیج دیا ہے۔
حکومت مبینہ طور پر انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ نظر ثانی شدہ معاہدوں کا اعلان کرنے والی ہے، جس میں ادائیگیوں میں نمایاں کمی شامل ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکام نے راولپنڈی میں ایک خفیہ مقام پر مالکان سے پوچھ گچھ کی ہے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے کہا ہے کہ ملک میں مقامی ریفائنریاں ناقص تیل کے ذریعے ملک میں کینسر پھیلا رہی ہیں، یہ یورو ٹو معیار کا تیل بھی نہیں بناتیں۔
حکومت نے نجی آئی پی پیز اور سرکاری پاور ہاؤسز کے درمیان فرق نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات پاور سیکٹر اصلاحات کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی ہے جو آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جولائی میں بجلی کی قیمت میں 51 فیصد اضافے کے باجود رواں مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضہ 2.8 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے آئی پی پیز کی اوور انوائسنگ کی تفصیلات طلب کر لیں۔
آئی پی پیز کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دہی کے حقائق منظر عام پر آگئے جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض بجلی گھروں نے غلط معاہدوں کے باعث بغیر بجلی پیدا کیے حکومت سے اربوں روپے وصول کیے۔