ڈیزل مہنگا، پیٹرول میں معمولی کمی کا امکان
حکومت 16 نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جہاں ڈیزل کی بڑی اور پیٹرول کی معمولی تبدیلی متوقع ہے۔
حکومت 16 نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جہاں ڈیزل کی بڑی اور پیٹرول کی معمولی تبدیلی متوقع ہے۔
پاکستان نے 18 سال بعد اپنی پہلی بولی کے عمل میں 23 آف شور تیل و گیس کے بلاکس سرمایہ کاروں کو دے دیے، جس سے توانائی کے شعبے میں غیر ملکی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں بجلی کے نرخوں میںسہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی گئی، جس کے بعد تین ماہ کے لیے 45 پیسے فی یونٹ اضافہ متوقع ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے اس اقدام پر شدید اعتراض اٹھایا ہے جس کے تحت انہوں نے بغیر منظوری کے چار ملین اے ایم آئی (Advanced Metering Infrastructure) میٹرز نصب کرنے کا عمل شروع کیا۔
ملک کے توانائی شعبے میں گردشی قرضہ ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے۔ پاور ڈویژن کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ کر 1.693 کھرب روپے ہوگیا۔
جامشورو پاور پلانٹ اور دو ایل این جی سے چلنے والے منصوبے دوبارہ نجکاری پروگرام کا حصہ بن گئے، حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی شعبے کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
قطر سے درآمدی ایل این جی کے سرپلس ہونے کے معاملے پر پاکستان نے آئندہ سال 2026 کے لیے گیس کی طلب کا نیا پلان قطری حکام کو فراہم کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا
عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان میں نومبر کے پہلے پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔
حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی خریداری کی موجودہ شرح میں کمی سے متعلق کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا، اور فی الحال 22 روپے فی یونٹ کی قیمت برقرار ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے-الیکٹرک کے 2024 تا 2030 کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف (MYT) کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ایسے ڈھانچہ جاتی نقائص درست کر دیے ہیں
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں دستیاب 7 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی صنعت اور زراعت کے شعبوں کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پیداواری سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا کو ستمبر 2025ء کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی 37 پیسے فی یونٹ تک سستی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ممبر نیپرا نے اپنے اختتامی نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ توانائی کے ماہرین اور نظامی ذرائع نےکے-الیکٹرک کے چار بجلی گھروں کی ممکنہ بندش کے منصوبے پرسخت تشویش کا اظہار
کے۔الیکٹرک (KE) کے حصص کی ممکنہ فروخت کے معاملے پر سعودی کمپنی ال جمیع پاور لمیٹڈ اور ایشیا پیک گروپ کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان کیا ہے
پیٹرولیم سیکٹر کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16 اکتوبر سے کمی کا امکان ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ کا شکار صارفین کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
پاکستان کے قابلِ تجدید توانائی کے متعدد بڑے منصوبے ایک بار پھر غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئے ہیں،
کراچی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے۔ الیکٹرک کے 31 اگست 2025 تک اس کے مجموعی بقایا قرضے 272 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جن میں 91 ارب روپے غیر ملکی اور 181 ارب روپے مقامی قرضے شامل ہیں۔
نیپرا نے کراچی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے-الیکٹرک پر جنوری 2023 کے ملک گیر بجلی بریک ڈاؤن کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے الزام میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشنز پر عائد کئی سالہ پابندی ختم کر دی ہے۔
وزیراعظم آفس نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لیے نامزد افراد کی فہرست پر نظرثانی کا حکم دیا ہے، جب خفیہ اداروں نے دو ناموں پر مفادات کے ٹکراؤ اور تعلق داری کے خدشات ظاہر کیے۔ ان افراد کے وفاقی وزیر پیٹرولیم کے ساتھ قریبی روابط کی نشان دہی کی گئی تھی۔
کے-الیکٹرک کو دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مقابلے میں دی جانے والی مالی اور انتظامی رعایتوں پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جنہیں ناقدین نے نہ صرف "غیر منصفانہ" بلکہ "صارفین پر براہ راست بوجھ ڈالنے والی" پالیسیاں قرار دیا ہے۔
حکومت پاکستان نے یکم اکتوبر 2025 سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔