پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں 5 نومبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.29 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹماٹر، ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے عوام کے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی) کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 12.31 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے گزشتہ ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں 0.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم تازہ اعدادوشمار قیمتوں میں دوبارہ اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ٹماٹر کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 54 فیصد اضافہ

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 54.18 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی کلوگرام ٹماٹر کی اوسط قیمت 125.70 روپے سے بڑھ کر 193.81 روپے ہوگئی۔

سالانہ بنیادوں پر بھی ٹماٹر کی قیمت میں 78.89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں ہفتہ وار 3.72 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد 11.67 کلوگرام سلنڈر کی اوسط قیمت 6,497.89 روپے تک پہنچ گئی۔ سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 114.88 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے، جو گھریلو صارفین کے لیے توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔

دیگر مہنگی ہونے والی اشیا میں آلو 2.07 فیصد، انڈے 1.17 فیصد، لہسن 1.06 فیصد، جلانے کی لکڑی 1.01 فیصد، پسا ہوا نمک 0.91 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0.64 فیصد اور تازہ دودھ 0.49 فیصد مہنگا ہوا۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مجموعی ہفتہ وار مہنگائی کی نسبتاً کم شرح کے باوجود روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

پٹرول اور ڈیزل سستے، مگر سالانہ بنیادوں پر مہنگائی برقرار

پی بی ایس کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمت میں 4.20 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.97 فیصد کمی ہوئی۔

تاہم سالانہ بنیادوں پر پٹرول اب بھی 36.34 فیصد اور ڈیزل 39.27 فیصد مہنگا ہے۔

اسی طرح گندم کے آٹے کی قیمت میں ہفتہ وار 0.34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹا 33.95 فیصد مہنگا ہے۔

مرغی کے گوشت کی قیمت میں ہفتہ وار 0.61 فیصد اور چینی کی قیمت میں 0.40 فیصد کمی ہوئی، تاہم سالانہ بنیادوں پر مرغی کا گوشت 31.81 فیصد مہنگا ہے۔

یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ایک ہفتے کے دوران قیمتوں میں کمی کو مہنگائی کے مجموعی دباؤ میں حقیقی کمی تصور نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ضروری اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا بوجھ اب بھی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔

کم آمدنی والے طبقے پر ہفتہ وار مہنگائی کا زیادہ دباؤ

پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر کم اخراجات والے طبقے پر پڑا۔

سب سے کم آمدنی والے اخراجاتی گروپ (پہلا کوئنٹائل) کے لیے ہفتہ وار مہنگائی میں 0.86 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسرے کوئنٹائل میں 0.70 فیصد، تیسرے میں 0.52 فیصد اور چوتھے میں 0.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس سب سے زیادہ اخراجات والے طبقے کے لیے ہفتہ وار مہنگائی میں 0.10 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اخراجات والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 12.75 فیصد رہی، جبکہ کم ترین اخراجاتی گروپ کے لیے یہ شرح 10.15 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ مختلف آمدنی والے طبقات پر یکساں نہیں، جبکہ کم آمدنی والے گھرانے ہفتہ وار قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

بجلی، آٹا اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں بھی زیادہ

سالانہ بنیادوں پر بجلی کے پہلے سلیب کے نرخوں میں 52.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح گندم کا آٹا 33.95 فیصد، مرغی کا گوشت 31.81 فیصد، پیاز 13.64 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 12.35 فیصد اور گائے کا گوشت 11.06 فیصد مہنگا ہوا۔

دوسری جانب آلو کی قیمت میں سالانہ 37.24 فیصد، انڈوں میں 27.59 فیصد اور چینی میں 25.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تاہم بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی کے باوجود بجلی، گیس، آٹے اور دیگر بنیادی ضروریات کی بلند قیمتوں نے گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔

مہنگائی میں عارضی کمی سے عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملا

تازہ اعدادوشمار پاکستان میں مہنگائی کی ایک غیر متوازن صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔ پٹرول، ڈیزل اور بعض غذائی اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار کمی کے باوجود ٹماٹر اور ایل پی جی سمیت کئی بنیادی اشیا مہنگی ہوئی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں کمی یا اضافہ صارفین کے لیے قیمتوں کی مجموعی سطح میں ہونے والی تبدیلی کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے کے باعث عوام پہلے ہی بلند اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکومت کے لیے محض قیمتوں میں عارضی کمی کافی نہیں ہوگی بلکہ ضروری اشیا کی مسلسل نگرانی، رسد کے نظام میں بہتری اور توانائی کے اخراجات میں استحکام کے ذریعے عوام کو پائیدار ریلیف فراہم کرنا ضروری ہے۔