پاکستان کا تجارتی خسارہ اکتوبر 2026 میں سالانہ بنیادوں پر 19.7 فیصد اضافے کے بعد 3 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیز رفتار اضافہ جبکہ برآمدات میں معمولی نمو ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں تجارتی خسارہ 3 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا، جو ایک سال کے دوران 63 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بڑھ گیا۔

تازہ اعدادوشمار پاکستان کی بیرونی تجارت میں بڑھتے ہوئے عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں درآمدات کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ یہ صورتحال ملکی برآمدی صلاحیت، صنعتی مسابقت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر ممکنہ دباؤ کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔

درآمدات میں تیز اضافہ، برآمدات کی نمو محدود

اکتوبر 2026 میں پاکستان کی درآمدات سالانہ بنیادوں پر 11.81 فیصد بڑھ کر 6 ارب 80 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں درآمدات کا حجم 6 ارب 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔

اس کے برعکس برآمدات میں صرف 2.84 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا حجم 2 ارب 92 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا، جو اکتوبر 2025 میں 2 ارب 84 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا۔

اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات سے تقریباً چار گنا زیادہ رہی، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ماہانہ بنیادوں پر بھی صورتحال میں بہتری نظر نہیں آئی۔ ستمبر 2026 میں 6 ارب 43 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی درآمدات اکتوبر میں 5.72 فیصد اضافے کے بعد 6 ارب 80 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔

دوسری جانب برآمدات ستمبر کے 2 ارب 92 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے صرف 0.21 فیصد بڑھ کر 2 ارب 92 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچیں۔

اس طرح ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 10.3 فیصد بڑھ کر 3 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگیا، جو ستمبر میں 3 ارب 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔

چار ماہ میں تجارتی خسارہ 14.6 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے اعدادوشمار بھی تجارتی عدم توازن کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔

اس عرصے کے دوران پاکستان کی مجموعی درآمدات 12.59 فیصد اضافے کے بعد 25 ارب 96 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 23 ارب 6 کروڑ ڈالر تھا۔

برآمدات میں 8.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا مجموعی حجم 11 ارب 33 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں برآمدات 10 ارب 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔

نتیجتاً جولائی تا اکتوبر 2026-27 کے دوران تجارتی خسارہ 15.97 فیصد اضافے سے 14 ارب 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہوگیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 12 ارب 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔

یوں صرف چار ماہ میں تجارتی خسارے میں تقریباً 2 ارب 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

درآمدات پر انحصار، برآمدی شعبے کی کمزوری نمایاں

تجارتی خسارے میں اضافے کی صورتحال محض درآمدی بل بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی برآمدی معیشت میں موجود ساختی کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

درآمدات میں تیز رفتار اضافے کے مقابلے میں برآمدات کی محدود نمو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملکی معیشت ابھی تک عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

حکومت کو صنعتی پیداوار میں اضافے، پیداواری لاگت میں کمی، برآمدی منڈیوں میں تنوع اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔

صرف درآمدات کو محدود کرنے کے اقدامات سے وقتی ریلیف تو مل سکتا ہے، تاہم تجارتی خسارے میں پائیدار کمی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔

پی بی ایس کے اعدادوشمار میں نظرثانی کا امکان

پاکستان بیورو آف شماریات نے واضح کیا ہے کہ اکتوبر 2026 کے تجارتی اعدادوشمار میں بعض معلومات تاحال شامل نہیں کی جاسکیں۔

ادارے کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈائریکٹوریٹ آف ری کنسیلی ایشن سروسز (DRS) اسلام آباد سے اکتوبر کے اعدادوشمار موصول ہونا باقی تھے۔

اسی طرح ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (EPZs) سے متعلق درآمدات اور برآمدات بھی رپورٹنگ کے طریقہ کار میں تاخیر کے باعث موجودہ اعدادوشمار میں شامل نہیں کی گئیں۔ یہ معلومات آئندہ رپورٹ میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

اس لیے اکتوبر کے اعدادوشمار کو حتمی کے بجائے ابتدائی اعدادوشمار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم ابتدائی اعدادوشمار بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مالی سال 2026-27 کے آغاز میں پاکستان کی درآمدات برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے بیرونی تجارت کا عدم توازن مزید گہرا ہورہا ہے۔