وفاقی حکومت نے پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں اصلاحات، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، مقامی پیداوار کے فروغ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے کے لیے چھ بنیادی ستونوں پر مشتمل نئی آٹو پالیسی متعارف کرا دی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مجوزہ پالیسی کے اہم خدوخال بیان کیے۔
نئی آٹو پالیسی کے چھ بنیادی شعبوں میں سستی گاڑیوں کی فراہمی، برآمدات میں اضافہ، مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری، گاڑیوں کے حفاظتی معیار میں بہتری، الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کا فروغ اور شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہیں۔
مجوزہ پالیسی کے تحت مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح صرف ایک فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کو عام صارفین کی پہنچ میں لانا اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔
اسی طرح نئی گاڑیوں کی بکنگ کے وقت خریداروں سے پیشگی ادائیگی کی حد 20 فیصد مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے صارفین پر ابتدائی مالی بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔
گاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے حکومت 45 نئے سیفٹی اسٹینڈرڈز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں تیار اور فروخت ہونے والی گاڑیوں کو بین الاقوامی حفاظتی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ تاہم ان معیارات کی کامیابی کا انحصار مؤثر نگرانی، سخت عمل درآمد اور خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی پر ہوگا۔
پالیسی کا ایک اہم پہلو گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی سہولت میں توسیع بھی ہے۔ مجوزہ انتظامات کے تحت اہل خریداروں کو ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کرنے اور اس کی ادائیگی کے لیے پانچ سال تک کی مدت دینے کی تجویز ہے۔
حکومت کا خیال ہے کہ اس سہولت سے گاڑیوں کی خریداری میں آسانی پیدا ہوگی، تاہم اس کا حقیقی فائدہ شرح سود، بینکوں کی شرائط اور صارفین کی مالی استطاعت پر منحصر ہوگا۔
نئی پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات کی تیاری بڑھانے اور پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو برآمدات کے قابل بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، پیداواری معیار میں بہتری اور مقامی صنعت میں سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
سوشل میڈیا پر مجوزہ پالیسی کو مثبت ردعمل ملا ہے۔ متعدد صارفین نے اسے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، معیار کی بہتری اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ تاہم بعض حلقوں نے اس کے عملی نفاذ اور حکومتی وعدوں کی تکمیل کے حوالے سے احتیاط کا اظہار بھی کیا ہے۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری طویل عرصے سے مہنگی گاڑیوں، محدود انتخاب، درآمدی پابندیوں، غیر مستقل پیداوار اور معیار سے متعلق شکایات کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں صرف ٹیکس مراعات اور قرضوں کی سہولت ان مسائل کا مستقل حل نہیں بن سکتی۔
مجوزہ آٹو پالیسی کابینہ کی منظوری کے مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار حتمی پالیسی، عمل درآمد کے شیڈول، ریگولیٹری نگرانی اور اس بات پر ہوگا کہ اس کے فوائد واقعی عام صارفین تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔
فی الحال حکومت کی یہ کوشش پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں تبدیلی کا ایک اہم منصوبہ دکھائی دیتی ہے، تاہم اصل کامیابی گاڑیوں کی قیمتوں میں حقیقی کمی، بہتر حفاظتی معیار، مسابقت، برآمدات میں اضافے اور صارفین کے اعتماد کی بحالی سے ہی ثابت ہوگی۔